اسلام قبول کرنے کے بعد
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲
دگنا جنگ کروں گا۔ چنانچہ اس کے بعد عکرمہ اپنی جان اور اپنے مال کیساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ گئے۔ وہ برابر اسی میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ وہ یرموک کے معرکہ میں زبردست جانبازی دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ (حیات الصحابہ طبع دمشق، الجزئر الاول، صفحہ ۱۷۷-۱۷۶) عکرمہ نے گستاخی سے لے کر جارحیت تک ہر جرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیا تھا۔ بظاہر وہ صرف اس قابل تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاتل نہیں تھے، داعی تھے۔ آپ نے عکرمہ کے ”آج “ میں ایک چھپا ہوا کل ”دیکھتا لیا تھا۔ یہی وہ داعیانہ نگاہ تھی جس کی بنا پر آپ نے انہیں یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ بعد کے واقعات نے بتایا کہ آپ کا اندازہ نہایت درست تھا۔ چنانچہ دشمن عکرمہ کے اندر سے ایک دوست عکرمہ بر آمد ہوا۔ جو شخص اپنی ابتدائی زندگی میں کفر کا کھمبا بنا ہوا تھا، وہ اپنی بعد کی زندگی میں اسلام کا ستون بن گیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد
اوپر ان لوگوں کی مثال نقل کی گئی ہے جو قبولِ اسلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہوئے مگر انہیں سزا دینے کی بجائے ان کو معاف کر دیا گیا۔ اب کچھ ایسی مثالیں درج کی جاتی ہیں جب کہ آدمی نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو اذیت پہنچائی۔ اس کے باوجود اس مسلمان کو قتل کی سزا نہیں دی گئی۔ ۱۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ‘ مجھ سے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے مقسم بن ابوالقاسم مولیٰ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل کی روایت بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ میں اور تلید بن کلاب اللیثی دونوں نکلے، یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمروبن العاص کے پاس پہنچے۔ وہ اپنا جوتا ہاتھ میں لٹکائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب حنین کے دن تمیمی نے آپ سے بات کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ بنو تمیم کا ایک شخص آپ کے پاس آیا، اس کو ذو الخویصرہ کہا جاتا تھا۔ وہ آپ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو مال غنیمت دے رہے تھے (وہ دیکھ رہا یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اے محمد، میں نے اس کو دیکھ لیا جو آپ نے آج کیا ہے۔ رسول اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues