Al-Risala · June 1989 · page 23

اسلام قبول کرنے کے بعد

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے عدل کیا ہو ( لم أرَكِ عدلت )۔

عبد اللہ بن عمر و بن العاص نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے ۔ آپ نے کہا کہ تیرا بُرا ہو، اگر میرے پاس عدل نہیں ہو گا تو پھر کس کے پاس عدل ہو گا ۔

حضرت عمر بن الخطاب نے یہ سن کر کہا کہ اے خدا کے رسول ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں۔ آپ نے کہا کہ نہیں ، اس کو چھوڑ دو ۔ عنقریب اس کی ایک جماعت ہو گی جو دین میں تعمق کرے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے۔ (سیرۃ ابن ہشام ، الجزء الرابع ، صفحہ ۴۴۱)

مذکورہ مسلمان ( ذو الخویصرہ ) کے معاملہ پر غور کیجئے ۔ اس نے خدا کے رسول کی شان میں جو گستاخی کی وہ سادہ معنوں میں صرف ایک لفظی گستاخی نہ تھی ، وہ خود آپ کی حیثیت رسالت پر ضرب لگانے کے ہم معنی تھی ۔ اس شخص نے آپ کی عدالت پر شبہ کیا تھا اور آپ کو اپنے خیال کے مطابق غیر عادل بتایا تھا ۔ یہ بات انتہائی حد تک سنگین ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قرآن کے راوی کی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے واسطہ جبریل خدا کا کلام پایا ہے ۔ اور اس کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ آپ کی اسی روایت پر یقین کر کے ہم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں ۔

یہ معلوم ہے کہ کسی روایت کو قبول کرنے کے لیے راوی کا عادل ہونا شرط لازم ہے ۔ جس راوی کی عدالت مشتبہ ہو ، اس کی روایت کبھی قبول نہیں کی جائے گی ۔ ایسی حالت میں مذکورہ تمیمی مسلمان کا آپ کو غیر عادل بتانا گویا آپ کے راوی قرآن ہونے کی حیثیت کو مشتبہ قرار دینا ہے ۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ سخت بات ہے جو آپ کے خلاف کہی جاسکتی ہے ۔ مذکورہ شخص نے اتنی سنگین بات کہی ، اس کے باوجود اس کو نہ کوئی سزا دی گئی اور نہ اس کو قتل کیا گیا ۔

کیا اس کے بعد بھی اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ رسول اللہ کی شان

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page