Al-Risala · June 1989 · page 24

اسلام قبول کرنے کے بعد

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۴

میں گستاخی بجائے خود موجب قتل جرم نہیں ہے۔ کسی کے واجب القتل ہونے کے لیے اسی کے ساتھ کچھ مزید اسباب درکار ہیں۔ مثلاً ریاست اسلامی سے بغاوت۔ چند افراد جو دورِ اول میں قتل کیے گئے ہیں، ان کا معاملہ اسی دوسرے حکم کے تحت آتا ہے ۔ انہیں ریاست سے بغاوت کے جرم میں قتل کیا گیا نہ کہ مجرد گستاخی رسول کے جرم میں۔ ۲ شعبان6 ھ میں وہ غزوہ پیش آیا جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ بنی المصطلق کہا جاتا ہے ۔ اس غزوہ کے لیے جو لشکر روانہ ہوا، اس میں عبد اللہ بن ابی اور دوسرے بہت سے منافق قسم کے مسلمان بھی شریک تھے۔ یہ لوگ اپنی بے حسی اور بے خوفی کی بنا پر معمولی باتوں کو شوشہ بنا لیتے اور رسول اللہ ﷺ اور مخلص مسلمانوں کے خلاف فتنے برپا کرتے رہتے ۔ اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر بھی آپ کے ساتھ تھیں ۔ واپسی میں فوج نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا۔ حضرت عائشہ حسب معمول رات کے آخری حصہ میں رفع حاجت کے لیے دور چلی گئیں۔ اس وقت ان کے گلے میں ایک معمولی قسم کا ہار تھا، وہ اتفاق سے ٹوٹ کر گر پڑا ۔ حضرت عائشہ اس کو تلاش کرنے لگیں ۔ اندھیرے کی وجہ سے اس میں بہت زیادہ دیر لگ گئی۔

حضرت عائشہ ابھی لوٹی نہیں تھیں کہ قافلہ روانہ ہو گیا ۔ قاعدہ یہ تھا کہ کوچ کے وقت حضرت عائشہ اپنے ہودج میں بیٹھ جاتی تھیں جو چاروں طرف کپڑے سے ڈھکا ہوتا تھا ، اور چار آدمی اس کو اٹھاکر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک چھوٹی اور دُبلی خاتون تھیں ۔ چنانچہ ہودج اٹھانے والوں کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس میں کوئی سواری نہیں ہے ۔ انھوں نے خالی ہودج کو اونٹ پر رکھ دیا اور اس کو لے کر روانہ ہو گئے۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ کوئی اور صورت نہ پا کر وہ وہیں چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں ۔ صبح کے وقت صفوان بن معطل سلمی وہاں آئے جو قافلہ کے پیچھے چلنے پر مامور تھے ۔ میدان میں ایک خاتون کو دیکھ کر وہ فورا سمجھ گئے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ (عائشہ) ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اس کے سوا انھوں نے کوئی اور کلام نہ کیا۔ صرف اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے پاس

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page