Come and tell me after third generation
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷
انھوں نے کیسی فورنیا رکھ دیا۔ گویا کیسی فورنیا ایک عربی لفظ قلعۃ الفرن کی اسپینی صورت ہے۔
ہندوستان ایک زیر ترقی ملک ہے۔ اس کے مقابلہ میں امریکہ ایک ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ وہاں ہر چیز کا معیار ہندوستان سے ممتاز طور پر مختلف ہے۔ مثلاً ہندوستان کا ایک آدمی اپنے ٹی وی سیٹ کو چلانے کے لیے اس کے پاس جاتا ہے اور اس کا بٹن دبا کر اس کو آن کرتا ہے ۔ تھا۔ مگروہ یہاں آپ کو ٹی وی سیٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ فاصلہ پر لیٹے یا بیٹھے ہوئے دیا سلائی کے برابر ایک آلہ کا بٹن دبائیں گے اور آپ کا ٹی وی فورا چلنے لگے گا۔ ریموٹ کنٹرول کا یہ طریقہ اب امریکہ میں بہت زیادہ عام ہو چکا ہے۔
ہوٹل کے کمرہ کا دروازہ کھولنے کے لیے ہمیں چابی استعمال کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہمارے پاس تاش کے پتے کی مانند ایک چھوٹا سا سوراخ دار کارڈ تھا ۔ اس کو ایک خانہ میں ڈالا جاتا تو وہاں ہری بتی جل جاتی ۔ اس کے بعد ایک ہینڈل دبانے سے دروازہ اپنے آپ کھل جاتا تھا۔ یہ کمپیوٹر کا کرشمہ تھا۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔
ہوٹل کے کمرہ کی پشت پر دیواری شیشہ کے باہر میں نے دیکھا تو کمرہ سے ملا ہوا وسیع پارک نظر آرہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے خیال آیا کہ میں تو ہوٹل کی پانچویں منزل پر ہوں ، پھر یہاں پارک کیسا ۔ مگر یہ چھت کا پارک تھا ۔ ہوٹل کے درمیان میں وسیع چھت پر درخت اور پھول اگا کر یہ پارک قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اس کی زمین مصنوعی تھی۔ بظاہر زمین پر گھاس کا ہرا لان دکھائی دیتا تھا۔ مگر در حقیقت کیمیائی قالین تھا جو کٹی ہوئی گھاس کی مانند بنا کر زمین پر بچھا دیا گیا تھا۔ ہلٹن ہوٹل کے جس وسیع ہال میں سیرت کا نفرنس ہو رہی تھی ، ایک بار مجھے اس کے ٹوائیلٹ میں جانے کی ضرورت پیش آئی۔ اس کے اندر میں نے دیکھا کہ ایک ٹونٹی دار لوٹا (Watering can) رکھا ہوا ہے۔ پلاسٹک کا بنا ہوا یہ امریکی لوٹا اس ہندوستانی لوٹے سے بالکل مختلف تھا جس کے متعلق یہ استہزائی فقرہ مشہور ہے : " کیا آپ کے شامل بندھنا بھی ہے " یہ اتنا خوبصورت اور اتنا موزوں بنا ہوا تھا کہ وہ آرٹ کا ایک نمونہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اگر اتنا خوبصورت لوٹا بنایا ہوتا تو نا ممکن تھا کہ کسی جواہر لال نہرو
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues