Al-Risala · June 1989 · page 38

Come and tell me after third generation

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۳۸

کو یہ جرات ہو کہ وہ ٹونٹی دار لوٹے کو مسلم تہذیب کا نشان بتاکر اس کا مذاق اڑائے۔ اس کے بعد لوٹے کا مذاق اڑانا خود اپنی بد ذوقی کا اشتہار دینے کے ہم معنی بن جاتا، اور کون ہے جو اپنی بد ذوقی کا اشتہار دینا پسند کرے ۔

کانفرنس کے دوران عربوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ ۲۷ دسمبر کو فجر کی نماز کے لیے مقررہ ہال میں پہنچا تو وہاں دوسرے لوگوں کے ساتھ ڈاکٹر جمال بدوی موجود تھے۔ وہ مصری ہیں اور آج کل کناڈا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے نماز پڑھانے کے لیے اصرار کیا۔ میں نے یہ کہہ کر ان کو آگے بڑھا دیا: الأئمة من العرب، وانا احب ان اسمع قرأة العرب - فنی قاریوں کی قرأت مجھے پسند نہیں۔ مگر عربوں کی سادہ قرأت مجھے بے حد پسند ہے۔ ایک عرب عالم جب قرآن کی قرأت کرتا ہے تو اس کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ صوتی لہروں پر میرا رشتہ ماضی سے قائم ہوگیا ہے۔ یہ سوچ کر ایک ارتعاش (Thrill) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ صحابہ کرام بھی اسی طرح قرآن کو پڑھتے ہوں گے۔

یہ اسلام کی ایک نادر خصوصیت ہے جو آج کسی بھی دوسرے مذہب کو حاصل نہیں۔ دوسرے مذاہب کی کتا بیں جن زبانوں میں تھیں وہ آج مردہ زبانیں بن چکی ہیں۔ یہ زبانیں جس لہجہ میں اپنے ابتدائی زمانے میں بولی جاتی تھیں، ان کا تسلسل بعد کی تاریخ میں قائم نہ رہ سکا ۔ اس لیے آج یہ جاننا ناممکن ہے کہ قدیم مذاہب کی مقدس کتابوں کو ان کے ابتدائی حاملین کس طرح پڑھتے تھے۔ مگر قرآن کی زبان پوری طرح ایک زندہ زبان ہے۔ اس کا لہجہ تواتر کے ساتھ تاریخ میں سفر کرتا ہوا ہم تک پہنچ رہا ہے۔ آج کا ایک فصیح عرب عالم جب قرآن کو پڑھتا ہے تو وہ عین وہی لہجہ ہوتا ہے جس میں اصحاب رسول قرآن کو پڑھتے تھے۔ اس طرح ہر فصیح عرب عالم گویا صحابہ کرام کی قرأتِ قرآن کا زندہ ٹیپ ہے۔ __ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب احسان ہے جو " قرآن محفوظ" کی صورت میں انسانیت کے حصہ میں آیا ہے۔

قومی آواز (۱۳ جنوری ۱۹۸۹) میں ایک عالم کی تقریر نقل ہوئی ہے۔ موصوف نے ایک عربی مدرسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا : اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس کی زبان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے جس کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے یہ کلام اور زبان آج تک ایک حرف کی تبدیلی کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page