Come and tell me after third generation
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
بغیر محفوظ ہے ۔ تاریخ شاہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں تغیرات رونما ہوئے اور ان کی اصلی حالت زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ بدلتی رہی ۔ لیکن عربی زبان انقلاباتِ زمانہ کے باوجود اپنی اصل حالت پر برقرار ہے ۔ کیوں کہ یہ کلام الٰہی ہے اور اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ مسلمان بجاطور پر اس پر فخر کر سکتے ہیں (صفحہ ۶)
قرآن کا اور عربی زبان کا محفوظ ہونا اہل اسلام کے لیے فخر کی بات نہیں بلکہ شکر کی بات ہے۔ کوئی شخص کہے کہ سورج کروڑوں سال سے برابر روشن ہے اور اس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے تو یہ ایک لغو بات ہوگی ۔ کیوں کہ سورج کو دیکھ کر ہمارے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے نہ کہ فخر کا جذبہ ۔ اسی طرح قرآن اور عربی کا محفوظ ہونا بھی شکر کا موضوع ہے نہ کہ فخر کا موضوع ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل غلطی یہی ہے کہ انھوں نے قرآن اور اسلام کو اپنا قومی فخر بنا لیا ہے ۔ یہی وہ برائی ہے جس میں اس سے پہلے یہود مبتلا ہوئے ، اور اب مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔
کانفرنس کے پروگرام میں شیخ جاد الحق د شیخ الازہر، قاہرہ ) ، ڈاکٹر عبد المحسن الترکی (ریاض) اور ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف (مکہ) کا نام بھی تھا ۔ وہ لوگ اس کے اجلاس کو خطاب کرنے والے تھے مگر آخر وقت میں کچھ اسباب پیش آنے کی وجہ سے وہ شرکت نہ کر سکے ۔ ان لوگوں کے نمائندے کانفرنس میں شریک ہوئے ۔
کانفرنس میں ایک عرب شیخ نے بہت دلچسپ تقریر کی ۔ انھوں نے عربی میں خطاب کرتے ہوئے کہا : هل قرأتم في القرآن : أدع الى سبيل ربك بالسيف او بالارهاب کیا آپ نے قرآن میں پڑھا ہے کہ اپنے رب کے راستہ کی طرف تلوار اور دہشت گردی کے ذریعہ بلاؤ) اس کے برعکس قرآن میں ہے کہ اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلاؤ (النحل ۱۲۵) اس کے بعد انھوں نے بہت اچھے انداز میں اس کی تفصیل کی کہ دعوت ، دل کو جیتنے کا نام ہے نہ کہ جسم کو قتل کرنے کا ۔ میں نے کہا کہ میں اس میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ دوسرے لوگ اگر " سیف " کو استعمال کریں تب بھی ہمیں حکمت اور موعظت حسنہ ہی کے طریقہ پر قائم رہنا ہوگا۔ اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues