Al-Risala · July 1989 · page 11

مذممّاً عصینا، و امره ابینا، و دینه قلیینا

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۱

اعلان نہیں فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے غرانیق کا جھوٹا قصہ گھڑا تھا، انہیں قتل کر کے ان سب کو جہنم رسید کر دو۔ اس کے برعکس آپ نے ان سے فرمایا کہ اذھبوا فانتم الطلقاء (جاو تم سب آزاد ہو)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں اسلام کی نظریاتی طاقت پر بھروسہ کیا، نہ کہ اسلام کی شمشیری طاقت پر۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر چہ آپ نے ان پر تلوار استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر اسلام کی نظریاتی طاقت نے ان کو مسخر کر لیا۔ ان کو آزادی دینے کے جلد ہی بعد وہ اسلام کے عقیدہ اور آپ کے اعلیٰ اخلاق سے اتنا متاثر ہوئے کہ کلمہ اسلام کا اقرار کر کے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے خدا کی غلامی میں دے دیا۔ ۲۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محاونڈ (Mahound) لکھا ہے۔ یہ ایک استہزائی نام ہے۔ جس طرح بعض لوگ وہابی کو وہابیڑا اور دیوبندی کو دیو کے بندے وغیرہ کہتے ہیں؛ اس طرح سلمان رشدی نے آپ کے لیے اس بگڑے ہوئے نام کو استعمال کیا ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے عیسائیوں نے آپ کے لیے گھڑا تھا۔

اس مجرمانہ حرکت کی مثال بھی زمانہ نبوت میں موجود ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اگر چہ آپ کے دادا عبد المطلب نے محمد رکھا تھا، مگر مکہ کے قریش نے استہزائی طور پر آپ کا نام مذمّم رکھ دیا۔ محمد کے معنی ہیں تعریف کیا ہوا۔ جبکہ مذمّم کے معنی ہیں مذمّت کیا ہوا۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل شاعرہ تھی۔ اس نے مذمّم کے لفظ کو لے کر شعر کہا تھا اور اس کو اس طرح پڑھا کرتی تھی :

مذممّاً عصینا، و امره ابینا، و دینه قلیینا

ہم نے ایک قابل مذمت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔

اس معاملہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ فرمایا ہو کہ دیکھو فلاں لوگ میرا نام بگاڑ کر مجھ کو مذمّم کہتے ہیں، ان سب کو قتل کر دو۔ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page