Al-Risala · July 1989 · page 19

بد نامی سے بچت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

ایک گدھے پر سوار تھے۔ راستہ میں عبداللہ بن ابی کا قلعہ نما مکان آیا جس کا نام مزاحم تھا۔ اس وقت عبداللہ بن ابی کے گرد اس کے قبیلہ کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ وہاں سواری سے اتر پڑے اور عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچ کر اس کو سلام کیا۔ آپ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔

راوی (اسامہ بن زید بن حارثہ) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کے ساتھ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ فارغ ہو چکے تو عبداللہ بن ابی نے کہا: اے شخص، آپ کی یہ بات تو اچھی ہے، لیکن اگر وہ حق ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھیں اور جو شخص اس کو سننے کے لیے آپ کے پاس آئے اس کو سنائیں، اور جو شخص آپ کے پاس نہ آئے تو اس کو آپ اس کی تکلیف نہ دیں۔ اور ایسے شخص کی مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں جو اس کو ناپسند کرتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن ابی کا یہ قول سخت ناگوار ہوا مگر آپ خاموشی سے آگے بڑھ گئے (سیرت ابن ہشام، الجزئر الثانی، صفحہ ۲۱۹) غزوہ احد (شوال ۳ ھ) میں قریش کا لشکر مکہ سے چل کر مدینہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے مشورہ فرمایا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شہر کے اندر ٹھہر کر مقابلہ کیا جائے ۔ عبداللہ بن ابی نے یہی دوسری رائے پیش کی۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گر وہ کی رائے کا لحاظ فرمایا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔

جب آپ مدینہ اور احد کے درمیان پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر اسلامی فوج سے الگ ہو گیا۔ اس طرح اس نے بے حد نازک موقع پر سخت بے وفائی کا ثبوت دیا۔ مزید یہ کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کی۔ اس نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا کہ اس شخص نے دوسروں کی بات مانی اور میری بات نہیں مانی۔ لوگو، میں نہیں سمجھتا کہ ہم یہاں کس لیے اپنے آپ کو ہلاک کریں (اطاعتہم وعصانی، مانند وی علام نقتل انفسنا ههنا ايها الناس) (سیرت ابن ہشام، الجزئر الثالث، صفحہ ۸)

غزوہ بنی المصطلق شعبان 6 ھ میں ہوا۔ اس مہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ سفر سے واپسی میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قافلہ نے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page