Al-Risala · July 1989 · page 35

٣٢ الحلال جولائی ۱۹۸۹

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔

صلیبی جنگوں جیسا واقعہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ برعکس صورت میں پیش آیا۔ مگر موجودہ پورے دور میں مسلمانوں میں کوئی بھی مثال نہیں ملتی جب کہ مسلم اہلِ علم نے مغربی اقوام کی برتری کا راز سمجھنے کے لئے حقیقی معنوں میں کوئی سنجیدہ کوشش کی ہو۔

سیٹل (Seattle) میں امریکہ کی مشہور جہاز ساز کمپنی بوئنگ (Boeing) کا پلانٹ ہے جس کی ورک فورس (Workforce) 96 ہزار ہے۔ یہ اپنی وسعت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کارخانہ ہے جو امریکی معیار کے ۷۵ فٹ بال فیلڈ کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے، اگر آپ وہاں جائیں تو وہاں ایک شاندار بورڈ پر آپ کو یہ الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے کہ جس طرح ہیرا تراشنے والا ہیرے کو تراشتا ہے، اسی طرح ہمارے ماہر کاریگر ہر جہاز کو درست کرتے ہیں اور حد درجہ صحت اور تفصیل کے ساتھ اس کو تیار کرتے ہیں :

Just as the diamond cutter strikes the stone, so our skilled workers assemble and carefully inspect each airplane with precision and detail. ابتداءً بوئنگ کمپنی میں کام کا معیار ایسا ہی تھا۔ مگر اب اس کا سابقہ معیار باقی نہیں رہا ہے۔ ۱۹۸۸ میں بوئنگ کے ایک درجن سے زیادہ جہازوں کے ساتھ چھوٹے یا بڑے حادثات پیش آئے۔ چنانچہ اب بوئنگ کمپنی کی ساکھ (Reputation) بہت گر گئی ہے۔ آبزرور (The Observer) کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ہوائی حادثات کا سبب زیادہ تر بناوٹ کی خامیاں (Manufacturing errors) تھیں ــــــــ الفاظ میں اعلیٰ معیار مقرر کر نا بے حد آسان ہے، مگر عمل میں اس کو مسلسل طور پر برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہے۔

امریکہ نے ایک شٹل خلا میں بھیجی جس کا نام چیلنجر (Challenger) تھا۔ یہ شٹل دو ملین میل کا سفر طے کر کے ۹ اپریل ۱۹۸۳ کو زمین پر واپس آگیا۔ اس میں دو خلائی کاریگر (Orbital repairman) اوپر بھیجے گیے تھے۔ ان دونوں کے جسم پر ۲۵۰ پونڈ وزن کا خلائی سوٹ تھا ۔ جن میں سے ہر ایک کی قیمت دو ملین ڈالر سے زیادہ تھی۔ وہ زمین سے ۷۹ میل کی دوری پر اپنے جہاز سے باہر نکلے اور چار گھنٹہ تک خلا میں رہے اور ایک مواصلاتی سٹلائٹ کی مرمت کا کام کر کے دوبارہ اپنے کیبن میں ۱۹۸۹ جولائی الرَّسَالَة ۳۵

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page