Al-Risala · July 1989 · page 36

٣٢ الحلال جولائی ۱۹۸۹

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶

واپس آگئے ۔

امریکہ خلا باز جس وقت زمین سے پونے دوسو میل کی بلندی پر ” تاریخ کا پہلا خلائی کارنامہ“ انجام دے رہے تھے ، اس وقت سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اپنے زمینی دفتر میں بیٹھے ہوئے ان سے بات کی۔ صدر نے ان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ خلائی شٹل ہمارے اس عہد کی ایک علامت ہے کہ ہم خلا میں امریکی بالاتری کو باقی رکھیں گے :

The space shuttle is a symbol of our commitment to maintain America’s leadership in space. Herald Tribune, London, April 10, 1983. اب پانچ سال بعد امریکہ کی خلائی بالاتری کا افسانہ ختم ہورہا ہے۔ خلائی بالاتری کا منصوبہ امریکہ کے لیے اتنا مہنگا پڑا کہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا ۔ انسان اپنی محدودیت کو نہیں جانتا۔ اگر وہ اپنی محدودیت کو جانے تو ہرگز وہ بڑی بڑی باتیں نہ کرے ۔

ایک خبر اخبار میں نظر سے گزری ــــــــ امریکہ اور فلپائن کی حکومت کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا ہے جس کے تحت واشنگٹن نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے کہ وہ فلپائن میں اپنے چھ فوجی اڈوں (Military bases) کے استعمال کے لیے پانچ کروڑ ڈالر سالانہ معاوضہ ادا کرے گا۔ یہ معاہدہ 1991 تک نافذ رہے گا ۔ ان میں ایک فضائی اڈہ ، ایک بحری اڈہ ، اور چار نسبتاً چھوٹی تنصیبات شامل ہیں۔ امریکی یہ سالانہ معاوضہ معاشی امداد ، فوجی تعاون اور اشیاء کی فراہمی کی صورت میں ادا کرے گا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو یہ رہا ہے کہ وہ عالمی قیادت حاصل کرے ۔ وہ اس کی بے حد مہنگی قیمت مسلسل دیتا رہا ہے۔ مذکورہ خبر اس کی محض ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ مگر امریکہ کے مدیرین اب محسوس کرنے لگے ہیں کہ یہ پالیسی قابلِ عمل نہیں۔ ایک امریکی لیڈر نے کہا کہ ایک خاندان کی طرح ایک سماج بھی اپنے ذرائع سے باہر جاکر غیر محدود طور پر زندہ نہیں رہ سکتا :

A society, like an individual family, cannot live beyond its means in- definitely.

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page