٣٢ الحلال جولائی ۱۹۸۹
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷
اسی کا نام حقیقت پسندی ہے ۔ غیر اسلام احساسِ حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے اور اسلام احساسِ خداوندی کی زمین پر ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے پاس آج دونوں میں سے کوئی زمین موجود نہیں ۔ اور بلا شبہ یہی ان کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔
نومبر ۱۹۸۸ میں امریکہ میں صدارتی الیکشن ہوا ہے ، اس میں جارج بش (George Bush) کو امریکہ کے صدر کی حیثیت سے چنا گیا ہے ۔ ایک خبر پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مسٹر جارج بش کا ایڈمنسٹریشن امریکہ کی اقتصادی پالیسی میں اہم تبدیلیاں لارہا ہے ۔ مثلاً امریکہ اب تک یورپ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا رہا ہے ۔ مگر نئے فیصلہ کے تحت ایشیا کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی ۔ اس کا سبب ایشیا سے ہمدردی نہیں ، بلکہ امریکہ کے اپنے مفاد کا تحفظ ہے ۔ نئے ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ ۱۹۸۷ میں امریکہ کی تجارت یورپ سے تقریباً ۱۰۱ بلین ڈالر کے قدر تھی جب کہ اسی مدت میں ایشیا سے امریکہ کی تجارت ۲۱۴ بلین ڈالر رہی ۔ ۱۹۸۸ میں بھی یہی تناسب مزید اضافہ کے ساتھ جاری ہے ۔
باشعور لوگ ہمیشہ اپنے عمل کا جائزہ لیتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنی کوتاہی کا اعتراف کرکے اپنے عمل کا رخ بدل لیتے ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ بے شعور ہوں ، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک بار وہ جس ڈگر پر چل پڑیں ، بس اسی ڈگر پر وہ بے سوچے سمجھے چلتے رہتے ہیں ، ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ وہ بربادی کے گڑھے میں گر کر اصلاحِ حال کا آخری موقع کھو چکے ہوں ۔ امریکہ کی سب سے بڑی کمزوری اس کی بے قید آزادی ہے ۔ اس بے قید آزادی کا سب سے زیادہ اظہار جنسی معاملات میں ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی کم سن لڑکیوں میں ، دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلہ میں ، اسقاط کی شرح سب سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔ یورپی قوموں کے مقابلہ میں تقریباً دگنا زیادہ ۔ ۱۵ سے ۱۹ سال کی عمر کی امریکی عورتیں تقریباً دس فی صد کی تعداد میں ہر سال حاملہ ہو جاتی ہیں :
American teenage girls have the highest rate of abortion in the developed world, more than double that of most European nations. About 9.8 per cent of American women aged 15 to 19 become pregnant annually, the highest rate among the nations studied.
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues