Al-Risala · July 1989 · page 42

We are not the master of our destiny

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲

پلیسٹی کی گئی ہے۔ اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی اہمیت کی چیز کو شہرت نہیں ملتی۔ البتہ غیر حقیقی اہمیت والی چیزیں بہت زیادہ شہرت حاصل کرلیتی ہیں۔

ایک صاحب نے پُر فخر طور پر کہا کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے فلک بوس عمارتیں (Skyscrapers) میں شہرت حاصل کی، میجر ولیم لی بیرن جینی نے ۱۸۸۵ میں پہلی دس منزلہ بلڈنگ شکاگو میں بنائی۔ اس کے بعد یہ ذوق بڑھتا رہا۔ نیویارک میں ۱۹۳۰ میں کرسلر بلڈنگ بنائی گئی جس کی ۷۷ منزلیں تھیں۔ ۱۹۳۱ میں نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ بنی جس میں ۱۰۲ منزلیں ہیں۔ ۱۹۷۳ میں شکاگو میں سیرس ٹاور بنایا گیا جس کی ۱۱۰ منزلیں ہیں۔ موجودہ پیرس (Sears) میں ۱۳ ہزار کارکن کام کرتے ہیں۔ یہ ایک عظیم الشان ریٹیل شاپ ہے، چنانچہ اس کو ہر چیز کی دکان (Everything stores) کہا جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی کارنامہ سے زیادہ خدائی کارنامہ کو یاد دلاتا ہے۔ یہ غیر معمولی اونچی عمارتیں تمام تر لوہا (اسٹیل) کا کرشمہ ہیں۔ قرآن میں ہے کہ لوہے کے اندر خدا نے بأس شدید (الحدید ۲۵) پیدا کیا ہے۔ لوہے کی اسی قدرتی صفت نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ زمین کے اوپر اتنی اونچی عمارتیں کھڑی کی جاسکیں ۔

"اسکائی اسکریپر" کو دیکھ کر آپ کے اوپر استعجاب کی حالت طاری ہو رہی ہے۔ مگر یہ استعجاب حقیقتہ انسانی انجینئرنگ پر نہیں بلکہ خدائی تخلیق پر ہونا چاہیے۔ کیوں کہ انجینئرنگ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی تخلیق کا انسانی استعمال ہے۔ "لوہا" تخلیق ہے اور اسکائی اسکریپر صرف اس کا ایک استعمال ۔

ایک امریکی سے ملاقات ہوئی جو واشنگٹن کا رہنے والا تھا۔ واشنگٹن امریکہ کی راجدھانی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ واشنگٹن کے بارے میں کچھ بتائیے۔ اس نے مسکرا کر کہا : People only leave Washington by way of the یعنی لوگ واشنگٹن کو صرف بکس کی راہ سے چھوڑتے ہیں۔ ووٹ کا بکس یا تابوت کا بکس۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ راجدھانی ہونے کی وجہ سے واشنگٹن میں ہر قسم کی اعلیٰ ترین سہولتیں مہیا ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page