We are not the master of our destiny
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳
اس کے علاوہ تمام اہم ترین سیاسی فیصلے یہیں ہوتے ہیں۔ جس شخص کو واشنگٹن میں کوئی جگہ مل جائے ، وہ اس کو آخری سمجھ کر اس سے لپٹا رہنا چاہتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جس " واشنگٹن " کا حال یہ ہو کہ ایک " بکس " آدمی کو اس سے جدا کر دے ، اس واشنگٹن کی کیا حقیقت۔ " واشنگٹن " تو وہ ہے جس میں ہمیشگی کی صفت پائی جائے ۔ اور ایسا واشنگٹن آدمی کو جنت کے سوا کہیں اور نہیں مل سکتا۔
۲۹ دسمبر 1988 کو میں جناب صغیر اسلم صاحب کے گھر پر تھا۔ صبح فجر کے وقت اچانک خطرہ کا الارم بجنے لگا۔ چند سیکنڈ کے بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ صغیر احمد صاحب نے رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے فوراً آواز آئی کیا آپ ٹھیک ہیں۔ (?Are you O.K., Sir) - یہاں پر گھروں میں ایک سسٹم لگا ہوا ہوتا ہے جس کو سیکورٹی الارم سسٹم کہتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی شخص دروازہ کھول کر باہر نکلے یا اندر داخل ہو تو الارم فوراً بجنے لگتا ہے۔ اور عین اسی وقت پولیس کے کنٹرول روم میں لال بتی جل جاتی ہے۔ پولیس ایک منٹ کے اندر صاحب مکان کو ٹیلی فون کرکے خیریت معلوم کرتی ہے ، یہ ٹیلی فون اسی کے مطابق ، پولیس کے دفتر سے آیا تھا۔ مذکورہ الارم کا قصہ اس لیے پیش آیا کہ ہمارے ایک ساتھی نے فجر کے وقت باہر جانے کے لیے گھر کا دروازہ کھول دیا تھا ۔
اتنے زبردست انتظام کے باوجود امریکہ میں مسلسل قتل اور ڈاکہ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ پر امن سماج کے قیام کے لیے مشینی انتظام کے سوا بھی ایک چیز درکار ہے۔ اور وہ خدا کا خوف ہے۔ صرف مشینی انتظام بھی پر امن سماج کے قیام کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ صغیر احمد اسلم (پیدائش ۱۹۳۶) کمالیہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ اب وہ امریکی شہری ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنا ۱۹۵۱ کا ایک واقعہ بتایا۔ رمضان کا زمانہ تھا۔ اسکول سے فارغ ہو کر وہ بائیسکل کے ذریعہ گھر کے لیے روانہ ہوئے۔ انھوں نے بازار سے آلو بخارا اور مالٹا خریدا۔ اس کو بائیسکل کے پیچھے رکھ کر جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک شخص ملا۔ اس نے ان کو روکا اور کچھ آلو بخارا زبردستی نکال کرلے لیا۔ صغیر احمد اسلم صاحب نہ غصہ ہوئے اور نہ اس سے دوبارہ اپنا آلو بخارا چھیننے کی کوشش کی۔ اس کے بجائے انھوں نے کہا : دیکھو ، یہ مالٹا ہے ، اس میں سے کبھی لے لو۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues