Al-Risala · July 1989 · page 44

We are not the master of our destiny

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴

آدمی نے مزید کوئی چیز نہ لی، وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔

مذکورہ واقعہ میں ایک صورت یہ تھی کہ صغیر اسلم صاحب یہ سوچتے کہ ابھی تو اس نے صرف آلو بخارا لیا ہے، اگر میں کمزوری دکھاؤں تو وہ مانٹا بھی لے لے گا۔ اور اگر میں نے مزید کمزوری دکھائی تو وہ میری بائیسکل بھی چھینے کی کوشش کرے گا۔ مگر اس قسم کے خیالات صرف شیطانی وسوسہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر خود عمل نہ کرنا فطرت خداوندی کو عمل کرنے کا موقع دینا ہے۔ چنانچہ صغیر اسلم صاحب نے جب کوئی مخالفانہ رد عمل ظاہر نہیں کیا تو مذکورہ آدمی کا ضمیر جاگ اٹھا۔ فطرت خداوندی نے وہ کام زیادہ بہتر طور پر کر دیا جس کو انسان صرف ناقص طور پر انجام دیتا ہے۔ جناب صغیر اسلم صاحب یہاں کپڑے وغیرہ کی تجارت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۵ء میں ایک بار ایک اخبار میں اشتہار نکلا کہ فلاں ہوٹل میں ہمارا لکچر ہو گا جس میں بتایا جائے گا کہ آپ مفید طور پر کوئی جائداد (Real estate) کس طرح حاصل کریں ۔ اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ اس کی کوئی فیس نہیں ہے۔ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ہال بالکل بھرا ہوا تھا۔ بلکہ سیٹ پر جگہ نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے ۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار آدمی سامعین میں موجود تھے ۔

اس اجتماع میں انہوں نے محض اپنا تعارف کرایا اور کچھ ابتدائی باتیں بتا کر کہا کہ کل ہمارا آٹھ گھنٹہ کا کورس ہو گا، اس میں تمام تفصیل بتائی جائے گی اور اس کی فیس ۵۰ ڈالر ہوگی۔ صغیر اسلم صاحب نے ۵۰ ڈالر دے کر ٹکٹ خرید لیا۔ اگلے دن وہ ہال میں پہنچے تو وہاں بمشکل ایک درجن آدمی موجود تھے ۔ انھوں نے آٹھ گھنٹہ کے کورس میں شرکت کی ۔ اس میں انہیں جائداد کی خریداری کے بارہ میں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں ۔ ان کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے اگلے چند مہینوں میں ۱۰ مکانات کی خریداری مکمل کی ۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کام میرے لیے بہت مفید ثابت ہوا کیوں کہ صرف تین سال میں ان مکانات کی قیمت دگنا ہو گئی۔ انھوں نے پانچ سو ڈالر خرچ کر کے پانچ لاکھ ڈالر کمائے۔

اس دنیا میں کامیابی کے لیے حوصلہ درکار ہے۔ جو شخص حوصلہ مند نہ ہو، وہ اس دنیا میں کبھی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page