Al-Risala · July 1989 · page 36

We are not the master of our destiny

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶

یکم اپریل ۱۹۸۹ء کی ملاقات میں بتایا کہ ان لوگوں نے ایک مسلمان پائلٹ آفیسر کے نام الرسالہ انگریزی جاری کرایا تھا۔ ڈیڑھ سال کے مطالعہ کے بعد ان کی ملاقات مذکورہ پائلٹ آفیسر سے ہوئی۔ انھوں نے تاثر پوچھا۔ پائلٹ آفیسر نے کہا کہ میرے تاثر کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ الرسالہ کے مطالعہ ہی کی وجہ سے ایسا ہوا کہ میں ہوائی جہاز کی سروس میں ہوتے ہوئے شراب کے استعمال سے بچ گیا، ورنہ وہاں تو شراب پانی کی طرح پی جاتی ہے۔ -۶ الرسالہ (اردو، انگلش) دوسری خدمات کے علاوہ ایک خدمت یہ انجام دے رہا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف الزامات کا علمی سطح پر مدلل جواب دیتا ہے۔ یہ جوابات نہ صرف یہ کہ لوگ خود پڑھتے ہیں بلکہ وہ اس کو دوسرے اخبارات ورسائل میں چھپوا کر اس کو مزید وسیع تر دائرہ میں پہنچاتے ہیں۔ الرسالہ انگلش میں مسٹرارون شوری کے بعض سنگین الزامات کا مدلل اور سائنٹفک جواب دیا گیا تھا۔ اس کو محمد رفیع عمر صاحب نے بمبئی کے ایک اخبار The Afternoon Despatch & Courier میں پہنچایا۔ اس اخبار نے اپنے شمارہ ۲۴ مارچ ۱۹۸۹ میں صفحہ ۱۱ پر اس کو مکمل طور پر شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے Distorting the Facts - -۷ محمد سکندر عالم (عالم بک اسٹور، جھومہ پراجر، اڑلیہ) لکھتے ہیں کہ اُن کے یہاں ۳۔ ۴ مارچ ۱۹۸۹ کو ایک بہت بڑا دینی اجتماع ہوا۔ اس موقع پر انھوں نے جلسہ گاہ میں اسلامی مرکز کی مطبوعات اور الرسالہ کا اسٹال لگایا۔ کافی لوگ اسلامی مرکز سے متعارفی مرکز ہوئے اور اچھا تاثر لیا۔ الرسالہ اور کتابیں جو اسٹال پر موجود تھیں، سب کی سب پہلے ہی روز فروخت ہوگئیں۔ اس کے بعد ہمارا اسٹال صرف نمائشی اور تعارف بن کر رہ گیا۔ پرچہ اور کتابوں کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ لوگوں کا بیان تھا کہ الرسالہ اور اسلامی مرکز وقت کے اہم تقاضے کے عین مطابق ہیں۔

-۸ شجاعت اللہ خاں صاحب ایڈوکیٹ سپریم کورٹ (نئی دہلی) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ وہ اپنے خط یکم اپریل ۱۹۸۹ میں لکھتے ہیں : آپ کے مضامین بہت معیاری ہوتے * ہیں اور مسائل پر بحث مکمل اور آسان طریقہ سے کی جاتی ہے۔ آپ کا طریقہ قانون خداوندی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues

Printed page