We are not the master of our destiny
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷
کو سمجھانے کا جدید اور سائنس پر مبنی ہوتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سارے علماء صاحبان کو آپ کا طریقہ تحریر ہی اپنانا چاہیے ۔
۹- ایک خاتون لکھتی ہیں کہ میں اپنے بچوں سے ملنے کے لیے ہندوستان سے عُمان آئی ہوں ۔ یہاں ہمارے پڑوس میں بہت سے غیر مسلم رہتے ہیں ۔ ان کو میں نے انگریزی رسالہ دیا۔ اسی طرح سفر کے دوران جہاز میں ائیر ہوسٹس وغیرہ کو بھی انگریزی رسالے دیے ۔ یہاں عُمان برطانیہ ایگزی بیشن لگی ہوئی تھی ، ۲۰ فروری سے ۲۶ فروری ۱۹۸۹ تک ۔ وہاں بھی بہت سی انگریز عورتوں کو میں نے انگریزی الرسالہ کے پرانے شمارے دیے ۔ اسی طرح سنگاپور میں نو مسلموں کی تنظیم ہے ، ان کو بھی ہم نے الرسالہ انگریزی کے شمارے بھجوائے ہیں ۔ (والدہ نگہت ضیاء)
۱۰- صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ۲۴ اپریل ۱۹۸۹ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : تہوار اور قومی یک جہتی ۔ اس تقریر میں قومی تہواروں کی سماجی حیثیت اور ان کے انسانی پہلو کو بیان کیا گیا ۔
۱۱- بنگلور کے ارشاد احمد خاں (پیدائش ۱۹۴۷) سینٹ جوزف کے طالب علم ہیں۔ وہ الرسالہ انگریزی پڑھتے ہیں ۔ انھوں نے انگریزی الرسالہ کے بارے میں اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کیے :
I subscribe many Islamic papers. Al-Risala (English) is the only paper that inspires me and gives me the right direction. ۱۲- ایک صاحب لکھتے ہیں : "خاتونِ اسلام" کی وی پی وصول کی۔ کتاب ہاتھ میں لینے کے بعد بس چھوڑنے کو جی نہیں چاہا اور جب تک کتاب ختم نہیں ہوئی، دل میں بس آگے ہی آگے پڑھنے کی تڑپ رہی ۔ واقعی کتاب اپنے موضوع پر لاثانی ہے۔ اللہ مولانا کے قلم میں اور زور بخشے ۔ لکھنے کا انداز بھی انوکھا ہے ۔ دل میں اثر کر کے ہی دم لیتا ہے (محمد رحمت اللہ، سیتا مڑھی)
۱۳- "اسلام دورِ جدید کا خالق" نامی کتاب جلد ہی پریس سے چھپ کر آنے والی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1989 All issues