سفر نامہ امریکہ۔ ۳
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۴
حاصل ہوئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ظہور اسلام)
اب اللہ آپ کا امتحان لے رہا ہے کہ آپ دونوں میں سے کس رول ماڈل کو اپنے لیے اختیار کرتے ہیں۔ حسین کے رول ماڈل میں چونکہ جاہ طلب اور سیاست پسند لوگوں کے لیے گنجائش نکلتی ہے، اس لیے لوگ اس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ مگر واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس رول ماڈل کو اپنایا، انھوں نے دوبارہ اسلام کی تاریخ میں بربادی کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ جب کہ حسن کا رول ماڈل اپنانے والوں نے ہمیشہ تاریخ میں مثبت اضافے کیے ہیں۔
ایک مجلس میں میں نے دیکھا کہ ایک صاحب روس کو برا کہہ رہے ہیں اور دوسرے صاحب امریکہ کو۔ میں نے کہا کہ روس اور امریکہ میں داخلی حالات کے اعتبار سے ضرور فرق ہے، مگر جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ۔ دونوں میں سے کسی کی بھی خارجہ پالیسی اصول کی بنیاد پر قائم نہیں ۔ وہ تمام تر استحصال کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے ۔ مثلاً افغانستان اور فلسطین کے معاملہ کو تقابلی طور پر دیکھیے ۔ افغانستان میں روس مقامی کمیونسٹ عناصر کا حامی ہے ، اور امریکہ مقامی مسلم مجاہدین کا۔ اس کے برعکس فلسطین میں امریکہ اسرائیل کا حامی اور سرپرست بنا ہوا ہے ، اور روس فلسطینی مسلمانوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ گویا افغانستان میں روس امریکی کردار ادا کر رہا ہے اور فلسطین میں امریکہ روسی کردار ادا کرنے میں مشغول ہے۔
اس اعتبار سے جنرل ضیاء الحق اور ڈاکٹر نجیب اللہ دونوں کا کیس، باعتبارِ نوعیت تقریباً یکساں ہے۔ ضیاء الحق امریکہ نواز پالیسی پر کار بند تھے ، اس لیے وہ امریکہ کے مطلوب شخص بن گئے ۔ اس کے برعکس نجیب اللہ روس نواز پالیسی پر عامل ہیں ، اس لیے وہ روس کے مطلوب شخص بنے ہوئے ہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات بھی بڑی عجیب ہے ۔ امریکہ ظالم اسرائیل کی حمایت کرکے مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پیدا کیے ہوئے ہے۔ ضیاء الحق اسی امریکہ کے حامی بن جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود ضیاء الحق کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے اکابر ان
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues