Al-Risala · August 1989 · page 25

سفر نامہ امریکہ۔ ۳

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵

کو مجاہدِ اسلام کا ٹائٹل عطا کریں۔ دوسری طرف نجیب اللہ اشتراکی روس کے حامی بنتے ہیں تو ان کے حصہ میں یہ بدقسمتی آتی ہے کہ اکابر ملت ان کو غدار کے لقب سے نوازتے ہیں۔ ایک دیندار مسلمان سے پاکستان کے الیکشن (نومبر ۱۹۸۸ء) کے بارے میں گفتگو ہوئی جس میں اسلامی اتحاد کو شکست دے کر بے نظیر بھٹو نے کامیابی حاصل کی ہے ، اور اب وہ کسی مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مذکورہ مسلمان نے اس پر اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” سقوطِ خلافت کے بعد یہ مسلم دنیا کے لیے دوسرا سب سے بڑا حادثہ ہے“۔ میں نے کہا کہ ایک لفظی ترمیم کے ساتھ مجھے آپ کے تبصرہ سے اتفاق ہے۔ وہ یہ کہ ____ سقوطِ خلافت کے بعد یہ مسلم دنیا کے لیے دوسرا سب سے بڑا سبق ہے ۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد ترکِ خلافت کی حمایت میں جو ہنگامہ خیز تحریک چلائی گئی، وہ گویا دیمک زدہ لکڑی پر ”ملٹی اسٹوری بلڈنگ“ کھڑا کرنے کی کوشش تھی۔ چنانچہ عین فطری قانون کے مطابق وہ ناکام ہوگئی۔ اسی طرح پاکستان میں اسلامائزیشن کا ساڑھے گیارہ سالہ فوجی عمل کیا گیا۔ وہ بھی گویا بیج ڈالے بغیر سپاوڑتے کے ذریعہ فصل کاٹنے کی کوشش تھی جو دوبارہ خود فطری قانون کے تحت بے فائدہ ثابت ہوئی۔

پیغمبرانہ طریقہ تزکیہ اور تدریج کا طریقہ ہے ۔ یعنی پہلے ذہن بنایا جائے، اس کے بعد دھیرے دھیرے عملی احکام کا نفاذ کیا جائے ۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر حالات پیدا کیے بغیر نہ بین اقوامی اسلامی خلافت قائم ہو سکتی اور نہ قومی اسلامی حکومت ۔ مگر مسلم رہنماؤں نے یہ اصلی اسلامی سبق نہ پہلے لیا اور نہ اب وہ ایسا سبق لے رہے ہیں۔ جس واقعہ سے سبق کی غذا حاصل کرنا تھا، اس کو وہ ماتم سرائی کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں ۔

امریکہ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے دہلی میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں پر مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بے قیمت ہے تو وہ ہندستانی مسلمان ہے ، مگر امریکہ کے سفر میں مجھ کو جو معلومات حاصل ہوئیں ، اس کے بعد اندازہ ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندستانی مسلمان آج سونے اور چاندی سے بھی زیادہ قیمتی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page