تیوہار اور قومی یک جہتی
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳
لوگوں نے اس کو گایا ہے :
سارے جہاں اچھا ہندوستان ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستاں ہمارا اس طرح کے مشترک ماحول اور یک جہتی کی فضا پیدا کرنے میں تہوار نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نفرت اور باہمی دوری کے قائل ہیں۔ اگر تہواروں کو صحیح جذبہ کے ساتھ اور مشترک انداز میں منایا جائے تو ہمارے سماج سے ہر قسم کے جھگڑے سے اور فساد کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔
مجھے مذہب پر دلیش کے ایک صاحب نے بتایا وہاں کے ایک قصبہ میں فرقہ وارانہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ہولی کے تہوار کا زمانہ آیا تو سخت اندیشہ پیدا ہو گیا کہ اس موقع پر فرقہ وارانہ فساد ہو کر رہے گا۔ ہولی کا رنگ انسانی خون کے رنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔
اس وقت ایک بزرگ ہندو، مسلمانوں کے علاقہ میں گئے۔ انھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ میں آپ لوگوں کا خیر خواہ ہوں اور آپ لوگوں کو ایک مشورہ دینے آیا ہوں جس میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ اگر آپ میرے اس مشورہ کو قبول کر لیں تو امید ہے کہ ہماری بستی بہت بڑی آفت سے بچ جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ہماری بستی کے جو حالات ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ مجھے بظاہر یقینی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالات باقی رہے تو ہولی کے موقع پر ضرور فرقہ وارانہ فساد ہو جائے گا اور ہماری سڑکوں پر رنگ کے بجائے خون بہے گا۔ اس مسئلہ کے حل کی ایک نہایت آسان تدبیر ہے اور اس وقت میں آپ کو وہی تدبیر بتانے آیا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ہولی کے دن جب ہندو لڑکے ہولی کھیلتے ہوئے مسلمانوں کے محلہ کے پاس پہنچیں تو مسلمان اس سے الگ نہ رہیں۔ بلکہ مسلمان لڑکے بھی باہر نکل کر ان کی پارٹی میں شامل ہو جائیں اور ان کے ساتھ ہولی کھیلنا شروع کر دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر بالفرض آپ لوگوں کے کپڑوں میں ہولی کا رنگ لگنے کا کچھ عذاب ہو تو میں بھگوان سے کہتا ہوں کہ وہ اس کو میرے حصہ میں ڈال دے اور اس تدبیر سے فساد کے ٹلنے کا جو ثواب ہے وہ سب آپ لوگوں کے حصہ میں لکھ دیا جائے ۔ یہ بات مسلمانوں کی سمجھ میں آگئی، چنانچہ انھوں نے ہولی کے موقع پر ایسا ہی کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues