Al-Risala · August 1989 · page 44

تیوہار اور قومی یک جہتی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴

ہولی کے دن حسب معمول ہندو نوجوانوں کی پارٹی مسلم محلے سے گزرنے والی سڑک پر آئی۔ اس وقت، پہلے سے طے ہوئے منصوبے کے مطابق، کچھ تفریح پسند مسلم نوجوان اپنے گھروں سے نکلے اور جوش وخروش کے ساتھ ہندو پارٹی میں مل گئے ۔ وہ اس مدت انہیں جیسے بن کر ان کے ساتھ ہولی کھیلنے لگے۔

ایسا کرنے کے بعد اچانک ساری فضا بدل گئی۔ جو دن دو دشمنوں کے ٹکر اؤ کا دن بنتا وہ دو دوستوں کے ملاپ کا دن بن گیا ۔ ہولی کا رنگ جوئتون کے چھٹ کاؤ کی صورت اختیار کرنے والا تھا، وہ پیار و محبت میں بدل کر لوگوں کے اوپر گلاب جل کا چھٹ کاؤ بن گیا۔

اسی طرح مہاراشٹر کے یک شہر کا قصہ ہے۔ وہاں ہر سال ایک خاص تاریخ کو گن پتی کا جلوس نکلتا ہے جو گویا ان کا ایک سالانہ تہوار ہے۔ ہندو اس میں بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ کئی سال ایسا ہوا کہ جلوس جب مسلم محلے سے گزرنے والی سڑک پر پہنچا تو کسی نہ کسی بات پر دونوں فرقوں میں اشتعال پیدا ہو گیا اور فساد کی نوبت آگئی۔

پچھلے سال وہاں کے مسلمانوں نے مشورہ سے یہ طے کیا کہ وہ جلوس کے خلاف روک ٹوک نہیں کریں گے اور نہ اس کی روٹ بدلنے پر اصرار کریں گے ۔ چنانچہ جب جلوس آیا تو انھوں نے پچھلے سالوں کے برعکس جلوس کا استقبال اور اس کو راحت پہنچانے کی کوششیں کیں۔ مثلاً یہ گرمی کا موسم تھا۔ چنانچہ انھوں نے راستہ میں جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کا انتظام کر دیا۔ وغیرہ اس کا نتیجہ نہایت خوشگوار نکلا۔ دو فرقے جو اس سے پہلے ایک دوسرے کو حریف کی نظر سے دیکھتے تھے، وہ ایک دوسرے کو دوست کی نظر سے دیکھنے لگے۔ جلوس کا قافلہ جو عام حالت میں دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بنتا، وہ دونوں کے درمیان دوستی اور یک جہتی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

تہوار کو اگر صحیح طریقہ سے منایا جائے تو بلاشبہ وہ رو اداری اور اتحاد اور ایک جہتی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ پورے سماج کو مشترک انسانی رشتہ میں جوڑ کر صالح معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اور صالح معاشرہ سے پیدا ہونے والے نتیجہ ہی کا دوسرا نام یک جہتی ہے۔ نوٹ: یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۲ اپریل ۱۹۸۹ کو نشر کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues

Printed page