خبر نامه اسلامی مرکز - ۵۳
الرسالہ، اگست ۱۹۸۹، صفحہ ۴۶
4۔ الالالالرسالہ کے مضامین اپنی عمومی پسندیدگی کی بنا نہ صرف اردو اخبارات اور رسائل میں نقل ہو کر وسیع پیمانہ پر پھیل رہے ہیں بلکہ دوسری زبانوں کے پرچوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً گوالیار کے ہندی روزنامہ دیش بندھو (۷ مئی ۱۹۸۹) نے رسالہ کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے " رمضان " یہ ہندی ترجمہ محمد انوار الحق صدیقی ایم اے نے کیا تھا۔
۵۔ غازی آباد سے ایک ہندی ہفتہ وار نکلتا ہے جس کا نام ہنڈن پَتھ ہے ۔ اس نے "صدائے حق " کے نام سے ایک مستقل کالم شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ہر ہفتہ رسالہ کا کوئی مضمون ہندی میں ترجمہ کر کے شائع کیا جاتا ہے ۔ ہندی ترجمہ کا کام مسٹر ایس ایس بھٹناگر انجام دے رہے ہیں۔
۶۔ مولانا امیر اللہ خاں (محبوب نگر) لکھتے ہیں : آپ کی نئی کتاب " دین کامل " کے مطالعہ کا اتفاق ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم میں سحر رکھا ہے ۔ جو آپ کی تحریر پر پڑھتا ہے مسحور ہو جاتا ہے ۔ " دین کامل " دین کی کامل ترین ترجمانی ہے جو عصری اسلوب میں کی گئی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی بقاء و ترقی اور دین اسلام کی اشاعت کا اہم ترین تقاضا دعوتی شعور اور عملِ دعوت ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اور اچھوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
۷۔ رسالہ کا تعمیری مشن خدا کے فضل سے دن بدن لوگوں کے ذہنوں پر چھایا جا رہا ہے ۔ بہت سے لوگوں نے اپنی بولیاں بدل دی ہیں ۔ وہ لوگ جو اس سے پہلے شکایت اور احتجاج کو کام سمجھ رہے تھے اب وہ اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس کا اظہار مختلف صورتوں میں سامنے آرہا ہے۔ مثلاً ایک مشہور مسلم رہنما نے اپنی ایک تقریر میں کہا: " میں بانگ دہل اعلان کرتا ہوں کہ ہم لوگ جو شکایت کرتے ہیں وہ شکایت بجا ہے، ہم شکایت کرتے رہیں گے۔ شکایت کرنا ہمارا حق ہے۔ ہم کو یہ حق ہے کہ اپنے قومی جلسوں میں اپنی مجلسوں میں اور اخباروں کے کالموں میں اس بات کی شکایت کریں کہ ہمارا فلاں حق نہیں مل رہا ہے۔ ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ ہم اپنی حکومت سے شکایت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1989 All issues