Al-Risala · September 1989 · page 11

الٹا نتیجہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۱

اس سے بچ کر رہو۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش نے اس متفقہ رائے پر باقاعدہ عمل کیا۔ چنانچہ حج کے بعد جب یہ تمام آنے والے لوگ اپنی بستیوں کو واپس ہوئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکورہ خبر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اور جو لوگ زیارت کعبہ کے لیے مکہ نہیں آسکے تھے ان کو قریش کی بات بتانے لگے۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ عرب کے تمام شہروں میں پھیل گیا ۔ ( فانتشر ذكره في بلاد العرب كلها)، سيرت ابن ہشام، الجز ء الاول، ۲۸۶ - یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر رفع ذکر (الانشراح (۴) کہا گیا ہے۔ جب حق کا ایک داعی حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو وہ لوگ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن کے قيادی مصالح یا معاشی مفادات اس سے ٹکرا رہے ہوں ۔ وہ دعوت اور داعی کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ وہ اس کے خلاف بے بنیاد الزامات گڑھتے ہیں اور ان کو چاروں طرف پھیلاتے ہیں تاکہ داعی لوگوں کے درمیان بدنام ہو جائے ۔ لوگ اس کی باتوں پر توجہ دینا چھوڑ دیں ۔

مگر لوگوں کی مخالفانہ کوششوں کا عملی نتیجہ برعکس صورت میں نکلتا ہے ۔ داعی کو بدنام کرنے کی کوشش داعی کے پیغام کو پھیلانے کا سبب بن جاتی ہے ۔ بدنام کرنے کی کوشش عملاً لوگوں کے اندر تجسس کا مادہ پیدا کرتی ہے ۔ وہ داعی اور دعوت کے بارہ میں مزید جاننے کے شائق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دعوت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو جاتا ہے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بنیادی طور پر ایک معقولیت پسند مخلوق ہے ۔ وہ کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہے جب کہ اس کی عقل بھی اس کے حق میں گواہی دے رہی ہو ۔ چنانچہ مخالفین جب اپنی بے بنیاد باتیں لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں تو خود اپنی اندرونی فطرت کے تقاضے کے تحت لوگ اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بارے میں مزید تفصیلات جانیں اور پوری معلومات کی روشنی میں اپنی رائے قائم کریں ۔

اس طرح داعی کے مخالفین اس بات کا ذریعہ بنتے ہیں کہ داعی جن لوگوں تک بذات خود نہیں پہنچا تھا ان لوگوں تک بھی داعی کی بات پہونچ جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ داعی حق کے خلاف پروپیگنڈا ہمیشہ داعی کے حقانہ میں جاتا ہے ۔ اس طرح زیادہ وسیع حلقہ میں داعی کی بات پہونچ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page