Al-Risala · September 1989 · page 19

نیند ایک نعمت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

نیند ایک نعمت

موجودہ زمانہ میں نیند کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ امریکہ ( نیو یارک) سے ایک سائنٹفک جرنل شائع ہوتا ہے جس کا نام نیند (Sleep) ہے۔ یہ جرنل جس ادارہ سے نکلتا ہے اس کا نام حسب ذیل ہے :

Association of Professional Sleep Societies

امریکہ میں جو لوگ نیند کے ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں ان میں سے ایک ڈاکٹر جیمز اے ہارن (James A. Horne) ہیں۔ انھوں نے نیند سے متعلق سائنسی انداز سے ریسرچ کی ہے اور اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔ ان کی رپورٹ نیو یارک ٹائمز میں چھپی ہے جس کا خلاصہ ٹائمس آف انڈیا (۲۴ جنوری ۱۹۸۹) میں مختصر طور پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے کہ سوؤ ، اگر تم تخلیقی بننا چاہتے ہو : Sleep-if you want to be creative. ڈاکٹر جیمز ہارن کا کہنا ہے کہ نیند کے متعلق نئی دریافتیں بتا رہی ہیں کہ نیند کا ایک خاص عمل یہ ہے کہ وہ انسان کے دماغ میں شعور سے ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کو درست کرتی ہے : The new findings seemed to support the view that one primary function of sleep is to "repair the cerebral cortex from the wear and tear of consciousness."

عام تجربہ یہ ہے کہ آدمی شام کو تھکا ہوا ہوتا ہے ۔ دن بھر کے واقعات و حوادث اس کے ذہن میں تناؤ کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں ۔ وہ مرجھائی ہوئی روح کے ساتھ بستر پر لیٹتا ہے۔ مگر چند گھنٹے سو کر جب وہ صبح کو دوبارہ اٹھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو تر و تازہ پاتا ہے ۔ وہ از سر نو اس قابل ہو جاتا ہے کہ زندگی کے معرکے میں بھر پور طور پر اپنا حصہ ادا کر سکے ۔ وہ دوبارہ ایک نیا انسان بن جائے۔

آدمی کو یہ نئی زندگی نیند کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ نیند اس کے ذہن کی مرمت کر کے اس کو تازہ دم بنا دیتی ہے۔ اگر نیند کا نظام نہ ہو تو انسانی مشین تھوڑے ہی دنوں میں ناکارہ ہو کر رہ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page