کراہتِ حق
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱
ایک آیت
فاستقم كما امرت ومن تاب معك پس تم جَمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جس ولا تطغوا انه بما تعملون بصير نے تمہارے ساتھ تو بہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو، ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار بے شک اللہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور ان وما لكم من دون الله من اولیاء متم کی طرف نہ جھکو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ لا تنصرون (ہود ۱۳-۱۱۴) پکڑلے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے ۔
اس آیت میں جس استقامت کا حکم دیا گیا ہے وہ بے آمیز دعوت پر استقامت ہے۔ اور عدم رکون (نہ جھکنے) سے مراد یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہرگز کوئی خارجی اثر قبول نہ کرو۔ ہر حال میں اسی دعوتِ توحید پر قائم رہو جس کی تمہیں تلقین کی گئی ہے۔
انسانی سماج میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ غیر خدا کی پرستش میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بھی خدا کو چھوڑ کر اور کبھی خود خدا کے نام پر۔ اس لیے جب کبھی سچی خدا پرستی کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ بھڑک اٹھتے ہیں جو غیر خدائی بنیاد پر اپنی زندگی کا ڈھانچہ کھڑا کیے ہوئے ہوں ۔ یہاں داعی بیک وقت دو سخت ترین آزمائش میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایک یہ کہ مدعو کی اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مکمل طور پر صبر کی روش پر قائم رہے، وہ کسی حال میں صبر و اعراض کی راہ سے نہ ہٹے ۔ دوسرے یہ کہ مدعو کے لیے قابلِ قبول بنانے کی خاطر وہ دعوت میں کسی بھی قسم کی لچک نہ دکھائے ۔ گویا ایک طرف اصل نکتہ دعوت پر جماؤ، خواہ اس کے نتیجہ میں مدعو کار د عمل شدید سے شدید تر کیوں نہ ہو جائے ۔ اور دوسری طرف اپنی داعیانہ تصویر کو برقرار رکھنے کی خاطر مدعو کے ہر ظلم کو یک طرفہ طور پر برداشت کرنا ۔
یہاں جس عدم رکون کا ذکر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی قومی شناخت کو قائم رکھنے پر پوری طرح جمے رہو۔ ایسا ہر گز مت کرو کہ ٹوپی اور شیروانی اتار کر ہیٹ اور پتلون پہننے لگو۔ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ حکمرانوں کے خلاف اپنی تحریک میں کسی قسم کی مصالحت نہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues