کراہتِ حق
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲
دکھاؤ ، ان کو تخت سے بے دخل کرنے کے سوا کسی اور بات پر راضی نہ ہو ۔ آیت کی ایسی تشریح بالکل لغو ہے۔ قومی عدم رکون یا سیاسی عدم رکون کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ۔
یہ آیت سراسر آداب دعوت سے متعلق ہے۔ یہاں عدم رکون سے مراد پیغام توحید کے بارہ میں عدم رکون ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت توحید کے خالص پن (Purity) کو پوری طرح باقی رکھو ۔ اس میں کسی بھی قسم کی آمیزش نہ کرو۔ قومی حقوق کا مطالبہ ، مادی زیادتیوں کے خلاف احتجاج ۔ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اسلوب دعوت کو بدلنا ، عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ان کی دل پسند بولی بولنا ۔ دعوت کے اصل نکتہ کے ساتھ ایسی باتوں کو شامل کرنا جس سے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہو۔ یہ سب رکون میں شامل ہے ۔ اور ایسی ہر چیز سے کامل پر ہیز داعی کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے ۔
دعوت کا کام سراسر ایک مثبت کام ہے ۔ مگر اس کی صحیح انجام دہی کے لیے دو منفی شرطیں ہیں ۔ ایک عدم طغیان ، اور دوسرے عدم رکون ۔ امام حسن بصری نے اس بات کو اس طرح بیان کیا کہ اللہ نے دین کو دولا (نہیں) کے درمیان رکھا ہے ۔ تجاوز نہ کرنا ، اور جھکاؤ نہ دکھانا ۔ (عن الحسن ، جعل الله الدين بين لاة مين ولا تطغوا ولا تركنوا ، تفسير النسفي)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں بہت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثلا مکہ میں ۱۳ سال تک مدعو قوم آپ اور آپ کے اصحاب کے اوپر ہر قسم کا ظلم کرتی رہی ۔ مگر آپ نے ان کے خلاف کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ ہمیشہ آپ ایک طرفہ صبر کی روش پر قائم رہے۔ ان کی زیادتیوں کے باوجود آپ نے نہ کبھی احتجاج کیا اور نہ حقوق طلبی کی مہم چلائی ۔ اسی طرح مکہ کے سرداروں نے آپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم آپ کی دشمنی چھوڑ دیں گے، آپ ہماری صرف ایک شرط کو پورا کر دیں ۔ وہ یہ کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہیں ۔ یہ تمام بت دراصل ان کے فوت شدہ بزرگ تھے ۔ ان بزرگوں کی تصویر بنا کر وہ ان کو پوجتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیدوں کی زد ان پر پڑتی تھی جس سے ان کی عقید تمندیوں کو سخت ٹھیس لگتی تھی ۔ انھوں نے چاہا کہ ان کی غیر خدائی عقید تمندیوں پر ضرب نہ لگے تو وہ آپ کو اور آپ کے مشن کو گوارا کر لیں گے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues