Al-Risala · September 1989 · page 23

قومی رجحان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

یہ دونوں چیزیں انسان کے لیے بے حد سخت ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے زیادہ سخت چیز اور کوئی اُس دنیا میں نہیں ۔

مذکورہ آیت میں جو حکم دیا گیا ہے ، اس کی اسی سنگین نوعیت کی بنا پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت شدید ثابت ہوئی تھی۔ البغوی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی آیت نہیں اتری جو آپ پر اس آیت سے زیادہ شدید ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ سورہ ہود نے مجھے کو بڑھا کر دیا (ما نزلت علی عھد رسول الله صلى الله عليه وسلم آية هي اشد عليه من هذه الآية ولذلك قال : شيبتني سورة هود)

قومی رجحان

ہر قوم کا ایک قومی رجحان ہوتا ہے۔ اس رجحان کا ساتھ دینے سے قوم کے اندر قیادت اور مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس رجحان کے خلاف بولے ، وہ قوم کے اندر بے جگہ ہو جاتا ہے۔ اس کو قوم کے اندر نہ مقبولیت حاصل ہوتی اور نہ قیادت۔

اس معاملہ کو وقت کی ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ہے ۔ ہندوستان کا قومی رجحان یہ ہے کہ کشمیر ایک حل شدہ معاملہ ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا قومی رجحان یہ ہے کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ اور متنازعہ معاملہ ہے۔ چنانچہ دونوں ملک کے لیڈر جب اس مسئلہ پر بولتے ہیں تو وہ اپنے یہاں کے قومی رجحان کی پوری رعایت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کے خلاف بولتے ہی وہ ختم ہو جائیں گے۔

اس کی مثال دونوں ملکوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ مثلاً ہندوستان میں آنجہانی راج گوپال اچاری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی طے ہونا باقی ہے ، اس کے بعد وہ ملک کے اندر بالکل غیر مقبول ہو گئے۔ اسی طرح پاکستان میں خان عبدالغفار خاں کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ آخری طور پر طے ہو چکا ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پاکستان میں غیر مقبول ہو کر رہ گیے ۔ اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ چیز کیا ہے جس کو قرآن میں رکون (ھود ۱۱۳) کہا گیا ہے۔

رکون (جھکاؤ) اگر کسی گروہ کی طرف ہو تو اس سے آدمی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page