Al-Risala · September 1989 · page 25

امر المسلمین

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵

امر المسلمین

ہندوستان کے مسلم رہنما جس چیز کو مسلمانوں کے ملی مسائل کہتے ہیں، وہ در حقیقت مسلمانوں کے قومی مسائل ہیں۔ یہ مسلمانوں کے اپنے قومی حقوق اور مادی مفادات کا جھگڑا ہے جو انھوں نے اس ملک کی حکومت اور یہاں کے اکثریتی فرقہ کے خلاف بے معنی طور پر چھیڑ رکھا ہے۔ اس قومی عمل کو اسلامی عمل ثابت کرنے کے لیے ان کے رہنماؤں نے ایک حدیث دریافت کرلی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے: من لم يھتم بامرا المسلمین فلیس منهم (جو شخص مسلمانوں کے معاملہ کے لیے فکر مند نہ ہو وہ ان میں سے نہیں)

ہمارے رہنماؤں نے اس حدیث سے "امرالمسلمین کا لفظ لیا اور اس کو موجودہ مسلمانوں کے تمام قومی جھگڑوں پر منطبق کر دیا۔ مگر استدلال کا یہ طریقہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ امرالمسلمین سے کون سا " امر" مراد ہے، اس کا تعین قرآن وسنت سے ہوگا، نہ کہ موجودہ مسلمانوں کے اپنے قومی رواجوں سے۔

اس حدیث میں امرالمسلمین کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان نامی گروہ جس چیز کو بھی اپنا امر (معاملہ) )سمجھ لے، وہ مسلمانوں کا امر بن جائے گا، اور اس کے لیے فکر مند ہونا اور اس کے لیے تدبیر کرنا ضروری ہو جائے گا۔ امرالمسلمین وہ ہے جو خدا اور رسول کے نزدیک امرالمسلمین نہ ہو کہ خود مسلمانوں کے نزدیک امرالمسلمین۔

مکہ کے مسلمانوں پر ہر قسم کا ظلم کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی مظلومیت کو ختم کرنے کے ظالموں سے جنگ کریں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امرالمسلمین نہیں مانا اور ان کو یکطرفہ طور پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ حدیبیہ کے معاہدہ کی دفعات صحابہ کرام کو " ملی غیرت" کے خلاف معلوم ہوئیں۔ انھوں نے چاہا کہ اسے رد کردیں اور قریش سے لڑیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امرالمسلمین تسلیم نہیں کیا اور لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس معاہدہ کو قبول کرلیں۔ فتح مکہ کے بعد مہاجرین نے چاہا کہ مکہ میں اپنے چھوڑے ہوئے مکانوں پر دوبارہ قبضہ کریں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی امرالمسلمین کی حیثیت نہ دی اور مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page