امر المسلمین
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶
مقبوضہ مکانوں کو اسی حالت میں چھوڑ کر مدینہ واپس چلے جائیں۔ وغیرہ ، وغیرہ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ کسی امر کا امرا لمسلمین ہونا خدا اور رسول کی مرضی سے طے ہوگا نہ کہ خود مسلمانوں کی اپنی خواہشات یا اپنی رایوں سے۔
مسلمانوں کے ساتھ پہلے بھی معاملات پیش آئے ہیں اور آئندہ بھی پیش آئیں گے۔ مگران معاملات کے مقابلہ میں مسلمانوں کی روش کیا ہو ، اس کا فیصلہ مسلمانوں کی اپنی مرضی سے نہیں ہوگا ۔ بلکہ کتاب وسنت کے بے لاگ مطالعہ سے یہ معلوم کیا جائے گا کہ کس معاملہ میں کون سی روش اختیار کی جائے۔ ہندوستان کے مسلمان اس وقت دو قسم کے مسائل سے دوچار ہیں ۔ ایک ، ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کے فرقہ وارانہ جھگڑے ۔ دوسرا ، مسلمانوں کے باہمی اختلافات۔ ان دونوں معاملات میں قرآن وسنت کی واضح رہنمائی موجود ہے ۔ مسلم رہنما اگر ان معاملات میں مذکورہ حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو وہی کام کرنا چاہیے جس کا حکم قرآن وحدیث میں دیا گیا ہے ۔ "ہند مسئلہ" کے متعلق بنیادی بات یہ ہے کہ ہندو ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اور جو لوگ مدعو ہوں ، ان کے بارہ میں حکم ہے کہ ان سے نہ مادی اجر طلب کرو اور نہ ان سے قومی نزاع برپا کرو۔ حتی کہ داعی کے اوپر فرض ہے کہ وہ مدعو کی زیادتیوں سے یک طرفہ طور پر اعراض کرے۔ مگر ہندوستانی مسلمان اس کے سراسر خلاف عمل کر رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہاں اہتمام بامر المسلمین یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ روش کی مذمت کی جائے اور ان کو صبر اور اعراض کی روش پر قائم رہنے کی تاکید کی جائے ۔
اس کے برعکس اگر مسلم رہنما یہ کریں کہ وہ "ملی مسائل " کے نام پر مسلمانوں کی قومی لڑائی میں شریک ہو جائیں۔ وہ اپنی تقریروں اور اپنے بیانات سے ان کی تصدیق اور ہمت افزائی کرنے لگیں تو یہ واضح طور پر حدیث کے مذکورہ حکم کی خلاف ورزی ہوگی ۔
مسلم رہنماؤں پر فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو بتائیں کہ ہندو ان کے لیے مدعو گروہ کے حکم میں ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ ہندوؤں سے قومی اور مادی مسائل پر ہرگز کوئی نزاع نہ چھیڑیں ۔ وہ حقوق طلبی کے بجائے محنت کشی پر اعتماد کریں۔ وہ ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ مسلم اور ہندو کے درمیان تعلقات کو خوشگوار بنائیں تاکہ اس ملک میں دعوتی عمل کا آغاز کیا جاسکے جو مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں صدیوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues