قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۸
قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ
عید اضحیٰ کے موقع پر ہر سال جو قربانی کی جاتی ہے ، اس کا تعلق انسانی زندگی سے بہت گہرا ہے۔ وہ صحت مند زندگی کی تعمیر کی علامت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں قربانی ایک سالانہ رسم بن کر رہ گئی ہے۔ اب وہ ایک بے روح مذہبی روایت کے طور پر زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سال کے مخصوص دنوں میں رسمی طور پر جانور تو ذبح کر دیتے ہیں۔ مگر اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نظر نہیں آتا۔ قربانی کا عمل اگر زندہ اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے تو ہمارا پورا معاشرہ بالکل بدل جائے۔
قرآن میں قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اللہ کو اس کا گوشت اور اس کا خون نہیں پہنچتا ، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ( الحج : (الحج:37 ) گوشت اور خون جانور کے جسم میں ہوتا ہے جس کو ذبح کیا جاتا ہے۔ اور تقویٰ اس آدمی کے دل کی چیز ہے جو ذبح کرنے والا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر اگرچہ جانور کو خدا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، مگر یہ حقیقتاً اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں قربانی جانور کا ذبیحہ نہیں بلکہ خود اپنا ذبیحہ ہے۔ یہ ذبح ہونے والے سے زیادہ ذبح کرنے والے کی تصویر ہے۔ بظاہر وہ ایک خارجی عمل ہے مگر باعتبار حقیقت وہ ایک اندرونی عمل ہے۔ اسی شخص کی قربانی صحیح قربانی ہے جس کی ظاہری قربانی اس کی اندرونی قربانی میں ڈھل جائے۔ جانور کو ذبح کرکے آدمی اپنے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خدا کی خاطر اپنی انا کو ذبح کرے گا۔ وہ اپنے مفادات کو قربان کرکے سچائی کے طریقہ پر قائم رہے گا۔ وہ مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کے حکم پر چلنے والا بنے گا۔ اس کا نفس اگر خدا کے راستہ میں چلنے میں رکاوٹ بنے گا تو وہ اپنے نفس پر چھری چلا دے گا مگر خدا کے راستہ سے ہٹنا گوارہ نہیں کرے گا۔
ایک اور مقام پر قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو ( الکوثر ) یہ آیت ایک اعتبار سے ، دین کے دو پہلوؤں کو بتاتی ہے۔ ایک عجز و تواضع ، اور دوسرے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues