Al-Risala · September 1989 · page 29

قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹

ایثار و قربانی۔ نماز عجز کی علامت ہے اور جانور کا ذبحہ قربانی کی علامت یہ گویا دو بنیادیں ہیں، جن کے اوپر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔

ایک اعتبار سے اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں عجز مطلوب ہے، اور بندوں کے مقابلہ میں قربانی درکار ہے۔ اللہ بڑا ہے، ہم چھوٹے ہیں۔ اللہ دینے والا ہے، ہم پانے والے ہیں۔ اللہ آقا ہے ۔ ہم اس کے بندے ہیں۔ اس اعتبار سے اللہ کے مقابلہ میں واحد چیز جو مطلوب ہو سکتی ہے ، وہ عجز و تواضع ہی ہے۔ یہاں بندے کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بے کمال ہونے کو مانے ، وہ اللہ کے مقابلہ میں عاجزی اور فرماں برداری کا طریقہ اختیار کرے۔

قربانی کا عمل کئی اعتبار سے بندوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اس اخلاقی برتاؤ اور انسانی سلوک کا خلاصہ ہے جو قربانی کرنے والے کو اپنے معاشرہ کے اندر پیش آتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل کو ذبیح کرنے کے لئے لٹانا چاہا تو حضرت اسماعیل نے اپنے مقدس باپ سے کہا کہ آپ کو خدا کی طرف سے جو حکم ملا ہے، اس کو کر ڈالیئے، انشا اللہ آپ مجھ کو صبر کرنے والا پائیں گے (الصافات ۱۰۲) اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کی حقیقت صبر ہے۔ قربانی اس کے بغیر انجام نہیں پاسکتی کہ آدمی پوری طرح صبر و برداشت کرنے والا بن جائے۔ قربانی کر کے آدمی علامتی طور پر اپنے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حضرت اسماعیل کی طرح صبر کرنے والا بنے گا۔ صبر اچھے معاشرہ کی واحد بنیاد ہے۔ صبر کے بغیر کبھی صالح اور صحت مند معاشرہ نہیں بن سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بہت سے آدمی مل کر رہتے ہیں تو ان میں بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو ایک دوسرے کے لئے ناخوشگوارى کا باعث ہوتی ہیں۔ ایسا ایک گھر کے اندر بھی ہوتا ہے۔ ایک بستی میں بھی ہوتا ہے اور ایک پوری قوم میں بھی ہوتا ہے۔ ایک کمرہ میں پتھر کے بہت سے اسٹیچور کھے ہوئے ہوں تو ان کے درمیان آپس میں کبھی ٹکر اؤ نہیں ہوگا۔ مگر جہاں زندہ انسان بستے ہوں وہاں اختلاف اور شکایت کا پیش آنا ضروری ہے۔ ایسی حالت میں معاشرہ کو انتشار اور فساد سے بچانے کا واحد راز یہ ہے کہ اس کے افراد

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page