Al-Risala · September 1989 · page 35

It contain..... several ancient mosques (1/285).

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

تھے کہ یہاں کبھی کوئی عمارت یا کوئی مسجد کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک چھپر ڈال کر یہاں تعمیر نو کا آغاز کیا۔ میں پہلی بار اپریل ۱۹۶۹ میں الور آیا تھا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مولانا ابراہیم صاحب ایک نیم کے درخت کے نیچے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھے ہیں اور دور چھپے ہوئے مستقبل کو تصوراتی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ۳۰ برس بعد آج یہاں دوبارہ ایک پورا ادارہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مسجد اور مدرسہ کی شکل میں اسلامی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس علاقہ میں چونکہ یہ واحد اسلامی ادارہ ہے، اس لیے اطراف کے مسلمان اس سے جڑ گئے ہیں۔ ————— ہر بربادی کو دوبارہ آبادی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ اس دنیا میں کوئی بربادی آخری بربادی نہیں ۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں یہ روایت تھی کہ مسلم ریاست میں ہندو افسران ہوا کرتے تھے، اور ہندو ریاست میں مسلم افسران ۔ الور کا راجہ ایک ہندو تھا، مگر اس روایت کے تحت یہاں کے اکثر بڑے بڑے فوجی اور غیر فوجی عہدے مسلمانوں کے پاس تھے ۔ شہر میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۵۰ فی صد تھی ۔ بہت سے شعبوں مثلاً طب ، وکالت وغیرہ ) پر مسلمانوں کو اجارہ داری حاصل تھی۔ مگر ۱۹۴۷ کا انقلاب آیا تو یہاں سے تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہو گیا ۔ یہاں کی ۱۱۰ مساجدیں ڈھادی گئیں۔ اب غالباً صرف ایک قدیم مسجد باقی رہ گئی ہے جو ایک " شدر نار بھتی " کے قبضہ میں ہے ۔ ماسٹر ایوب صاحب نے الور کا سول ایریا دکھایا۔ چلتے ہوئے ہم لوگ ایک مقام پر پہونچے جہاں ایک چوک پر اشوک کی لاٹ کہتی اور اس کے اندر پارک بنا ہوا تھا ۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے اس چوک پر ایک مسجد تھی جو ننگی والی مسجد کہی جاتی تھی ۔ ۱۹۴۷ میں یہ مسجد ڈھادی گئی ۔ اس کے بعد جب شہر کا ڈویلپ منٹ ہوا تو مسجد کی جگہ پر سڑک بن گئی۔

ماسٹر ایوب صاحب (سابق ایم ایل اے) نے بتایا کہ انہوں نے فروری ۱۹۸۷ میں راجستھان اسمبلی میں اس مسجد کی بابت سوال اٹھایا تھا۔ حکومت کی طرف سے جو تحریری جواب دیا گیا، اس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کے گرنے کے بعد وہاں سڑک تعمیر ہو گئی ہے ۔ تاہم مسجد کے رقبہ کے بقدر ایک پلاٹ قریب ہی سڑک کے کنارے مسجد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس پلاٹ کا نمبر بھی انھیں بتایا گیا۔ ماسٹر ایوب صاحب نے کہا کہ وہ پلاٹ میں نے دیکھا تھا اور وہ پانچ سال سے زیادہ مدت تک مسجد کے نام پر خالی پڑا رہا۔ مگر مسلمان اس کو استعمال نہ کر سکے ۔ یہاں تک کہ حسب قاعدہ ضروری مدت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page