Al-Risala · September 1989 · page 36

It contain..... several ancient mosques (1/285).

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶

گزرانے کے بعد حکومت نے وہاں اپنی تعمیرات کرالیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان کھوئے ہوئے مواقع کے لیے فریاد کرنے میں سب سے آگے ہیں مگر ملے ہوئے مواقع کو استعمال کرنے میں وہ سب سے پیچھے ہوگئے ہیں ۔

مولانا محمد حنیف خاں صاحب ( پیدائش ۱۹۵۲) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں اور اس کے نقطہ نظر سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے کئی تجربات بتائے ۔ ان میں سے دو یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔

لال داس کی درگاہ (شیرپور) میں لال داس کی قبر ہے ۔ ہندو ان کو ہندو کہتے ہیں ۔ اور مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان تھے ۔ اس درگاہ کے احاطہ میں تین مسجدیں بھی ہیں ۔ جولائی ۱۹۸۶ میں یہاں جھگڑے کی صورت پیدا ہوگئی ۔ کچھ مسلمانوں نے یہاں کی ایک مسجد میں لاؤڈ اسپیکر لگا کر اذان دی اور نماز باجماعت ادا کی ۔ اس پر ہندوؤں کو اعتراض ہوا اور دونوں فرقوں میں لڑائی کی نوبت آگئی ۔

الور کے ہندی اخباروں (خاص طور پر الور بازار پتریکا) نے خبر کو اس انداز میں شائع کیا کہ مسلمانوں نے لال داس جی کے مندر پر قبضہ کر لیا اور اس کے اندر گھس کر زبردستی نماز پڑھی ۔ اور ہندوؤں کو مار پیٹ کر بھگا دیا ۔ یہ خبریں چھپیں تو الور میں حالات بگڑ گئے اور فساد کی صورت پیدا ہوگئی ۔ ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگا کہ شیر پور میں مسلمانوں نے ہندوؤں پر ظلم کیا ہے ۔ اس موقع پر مقامی مسلمانوں نے صحیح حالات مرتب کر کے مقامی ہندی اخباروں میں چھپوانا چاہا ۔ مگر اخباروں نے ان کے بیانات نہیں چھاپے ۔ ہندوؤں سے ملاقات کر کے زبانی وضاحت کی کوشش کی گئی تو وہ بھی بے فائدہ ثابت ہوئی ۔ اس وقت کچھ مسلمانوں نے قومی ایکتا منچ کی میٹنگ کی ۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ لوگ بھی شریک ہوئے ۔

تاہم منچ کی میٹنگ میں کوئی بات طے نہ ہوسکی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں ہندی اخبارات میں چھپنے والی رپورٹیں اور افواہیں چھائی ہوئی تھیں ۔ آخر میں کچھ مسلمانوں نے یہ تجویز پیش کی کہ قومی ایکتا منچ کے ذمہ دار افراد شیر پور جائیں ۔ وہ اپنے ساتھ ایک پتر کار (اخبار نویس) اور فوٹو گرافر بھی لے جائیں ۔ وہ براہ راست معلومات کے ذریعہ رپورٹ تیار کریں اور جائے وقوع کا فوٹو بھی لیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page