Al-Risala · September 1989 · page 42

دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲

ساری رات لاؤڈ اسپیکر سے گانے کی آوازیں آتی رہیں۔ رات بھر رسوم ادا کرنے کے بعد صبح ہوئی تو شادی والے اور شامیانہ والے میں تکرار ہو گئی۔ شامیانہ والا ۵۰ ہزار روپیہ مانگ رہا تھا۔ شادی والے کا کہنا تھا کہ ۴۵ ہزار میں بات طے ہوئی تھی۔

قاضی صاحب " جو انسان سے نہ چاہے وہ خدا سے پاتا ہے " سب سے بڑی دولت استغنا ہے۔ کیماشہ کی آبادی تقریباً ایک ہزار ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہاں اور علاقہ کے دوسرے مقامات پر زیادہ تر میو مسلمان آباد تھے۔ وہی یہاں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد بیشتر میو یہاں سے چلے گئے۔ زمینیں تقریباً سب کی شتر زنار کھیتوں کو دے دی گئیں۔ تھوڑے سے میو جو یہاں باقی تھے ان کی حیثیت زرعی مزدور کی ہو گئی۔ ان میوؤں کے لیے زندگی کی صورت صرف یہ تھی کہ وہ شتر زنار کھیتوں کی زمینوں پر محنت کرکے اپنی معاش حاصل کریں۔ مگر شتر زنار کھیتی یہاں جم نہ سکے۔ ان کے اندر شہر جانے کا ذہن ابھرا۔ وہ اپنی زمینوں کو بیچ کر شہروں کی طرف منتقل ہونے لگے ۔ اب میوؤں کی باری تھی۔ انھوں نے ان زمینوں کو شتر زنار کھیتیوں سے خریدنا شروع کر دیا۔ اس طرح یہاں کی زمینیں اب دوبارہ میوؤں کے قبضہ میں آچکی ہیں۔ دس سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو میوؤں کو یہ شکایت کرتے ہوئے سنا تھا کہ ہماری زمینیں شتر زنار کھیتوں کے قبضہ میں چلی گئیں۔ مگر اب دس سال بعد دوسرا سفر ہوا تو تاریخ بدل چکی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی عجلت پسندی کی وجہ سے آنے والے وقت تک انتظار نہیں کر پاتے۔ لوگ اگر کل کے امید افزا حالات کو جانیں تو وہ کبھی آج کے مایوس کن حالات پر دل شکستہ نہ ہوں ۔

یہاں کی مسجد دوبارہ زیادہ بہتر اور وسیع انداز میں تعمیر کی جا رہی ہے۔ ۲۵ مئی کو صبح روانگی سے پہلے میں مسجد کے اندرونی حصہ میں کھڑا ہوا اس کی تعمیرات کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ یہ قدیم مسجد پہلی بار ۱۹۴۷ء میں مکمل طور پر ڈھادی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی نئی تعمیر ہوئی۔ یہ نئی تعمیر بھی دوبارہ ۱۹۸۸ میں پوری کی پوری ڈھادی گئی۔

میں نے سوچا کہ " ڈھانے " کے اعتبار سے ۱۹۴۷ء کا واقعہ اور ۱۹۸۸ء کا واقعہ، دونوں بظاہر یکساں ہیں۔ مگر نوعیت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ پہلا واقعہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page