Al-Risala · September 1989 · page 44

دل کے خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴

جاری ہے ۔ حالانکہ بچی اور دورے تمام مسافر حقیقتہ " خدا کے گھر " کی طرف جا رہے ہیں ۔ دہلی ہمارا درمیانی اسٹیشن ہے نہ کہ آخری اسٹیشن ۔

یہ سوچتے ہوئے ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں ٹرین پر نہیں ہوں ، بلکہ کسی خدائی سواری پر بیٹھا ہوا ہوں ۔ خدا کے فرشتے مجھے دنیا سے آخرت کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ ۲۵ مئی کی صبح کو جب ٹرین دہلی اسٹیشن پر رکی تو چھوٹی بچی کے لیے وہ " نانی کا گھر " س تھا جس کی نانی اس کا استقبال کرنے کے لیے پہلے سے اسٹیشن پر موجود تھی۔ مگر میرے لیے وہ " خدا کا گھر " تھا جہاں خدا کے فرشتے ہر آنے والے کو اپنے قبضہ میں لے رہے تھے ۔

آج کی دنیا میں ہر آدمی مذکورہ چھوٹی بچی کی مانند ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی " نانی کے گھر " جا رہا ہے ۔ حالال کہ وہ " خدا کے گھر " کی طرف جا رہا ہے ۔ وہ استقبال کے اسٹیشن پر نہیں بلکہ احتساب کے اسٹیشن پر اترنے والا ہے ۔ کتنا زیادہ فرق ہے لوگوں کی سوچ میں اور اصل حقیقت واقعہ میں ۔

قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دینِ کامل دین مستحکم ہے ۔ اسلام کا ظہور ، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور از مولانا وحید الدین خاں کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے ۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل صفحات ۳۶۸ کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے هدیه ۲۰ روپیه وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1989 All issues

Printed page