Al-Risala · November 1989 · page 20

جنگ برائے دفاع

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

پیش کر رہا تھا۔ مگر وہ انھیں یہ حق دینے کے لئے تیار نہ تھا کہ وہ تبلیغ" سے تجاوز کر کے" اکراہ" کے دائرہ میں داخل ہو جائیں ۔ وہ کہنے سننے سے آگے بڑھ کر ان پر جبر کرنے لگیں ۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جو حضرت نوح کے تذکرہ کے ذیل میں بیان ہوا ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔ قوم کے بڑوں نے آپ کی دعوت کو ملنے سے انکار کیا۔ اس کے بعد حضرت نوح نے کہا کہ اے میری قوم، بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں ۔ اور اس نے مجھ پر اپنے پاس سے رحمت بھیجی ہے ، مگر وہ تم کو نظر نہیں آتی تو کیا ہم تم کو اس پر مجبور کر سکتے ہیں، جب کہ تم اس کو ناپسند کر رہے ہو (ہود (۲۸) پیغمبر کا یہ جواب جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اگرچہ اپنے آپ کو صد فی صد پر حق سمجھتا تھا، اس کے باوجود اس کے نزدیک یہ درست نہ تھا کہ وہ دوسروں کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرے۔

قرآن کے مطابق اکراہ (مجبور کرنا) ہر حال میں قابل ترک ہے۔ نہ داعی اور مصلح کو یہ حق ہے کہ وہ مدعو کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرے اور نہ مدعو یہ حق رکھتا ہے کہ وہ داعی کو اپنے جبر کا نشانہ بنائے۔ دونوں فریقوں کے لئے ایک ہی صحیح پالیسی ہے اور وہ رواداری (Tolerance) ہے۔ یعنی دونوں کو اپنی بات کے اظہار کا پورا حق ہے۔ مگر دونوں میں سے کسی کو بھی جبر کا کوئی حق نہیں۔ کوئی شخص اپنی بات کو منوانے کے لئے اول و آخر جو چیز استعمال کر سکتا ہے وہ دلیل ہے نہ کہ عملی جبر یا دباؤ۔

جنگ برائے دفاع

اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم ہے، اور وہ دفاع (Defence) ہے۔ جارحانہ جنگ کسی بھی حال میں اسلام کے اندر جائز نہیں۔ قرآن میں ہے کہ۔ وہ لوگ کہ جب ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں ۔ اور برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی ۔ پھر جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں کے اوپر کچھ الزام نہیں۔ الزام صرف ان پر ہے جو لوگوں کے اوپر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page