Al-Risala · November 1989 · page 21

جنگ برائے دفاع

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱

عذاب ہے۔ اور جس شخص نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کام ہیں الشوری ۳۹ اسلام میں جنگ کی حیثیت ایک ناگزیر بُرائی (Necessary evil) کی ہے۔ دوسروں کی طرف سے جارحیت پیش آنے کے بعد بھی اگر صبر اور اعراض اور گفت و شنید کے ذریعہ امن قائم کرنے کی امید ہو تو جنگ کے بدلے جنگ نہیں کی جائے گی۔ بلکہ صبر و اعراض اور گفت و شنید کے ذریعہ منصفانہ حل تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسلام میں جنگ صرف اُس وقت ہے جب کہ جنگ کے سوا کوئی اور چارہ کار سرے سے باقی نہ رہے۔

پیغمبر اسلام کے زمانہ میں آپ کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کی گئی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ جنگ کو اوائڈ (Avoid) کریں۔ آپ کی پوری قولی اور عملی زندگی اسی اصولِ اعراض (Principle of avoidance) کا نمونہ ہے۔

مثلاً احد یہ (۶ھ) کے سفر میں خالد بن الولید ایک فوج لے کر آپ سے لڑنے کے لئے مکہ سے روانہ ہوئے۔ جب آپ کو یہ خبر معلوم ہوئی تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جوابی تیاری کا حکم نہیں دیا بلکہ سادہ طور پر اپنا راستہ بدل دیا تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت ہی نہ آئے۔ اِسی طرح غزوہ احزاب (۵ھ) کے موقع پر آپ کے مخالفین بہت بڑا لشکر لے کر آئے تاکہ مدینہ پر حملہ کریں۔ آپ کو دشمن کی روانگی کی خبر ملی تو یہاں بھی آپ نے جوابی مقا بلہ کا اہتمام نہیں کیا۔ اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ مدینہ کی سرحدوں پر لمبی خندق کھود دی تاکہ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان ایک آڑ قائم ہو جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کی نوبت نہ آئے۔ حدیبیہ (۶ھ) کے موقع پر آپ کے حریف قریش آپ سے لڑنے کے لئے تیار تھے۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور جارحیت کی۔ مگر آپ سب کچھ یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے اور قریش پر کوئی جوابی حملہ نہیں کیا۔ آخر میں آپ نے خود قریش کی یک طرفہ شرائط کے تحت دس سالہ نا جنگ معاہدہ پر دستخط کر دیئے۔ پیغمبر کا اسوہ پیغمبر اسلام ۶۳ سال تک دنیا میں رہے۔ آپ کی پیغمبرانہ عمر ۲۳ سال تھی۔ اس مدت میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page