Are you for war or peace?
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲
آپ کے خلاف مسلسل طور پر بدترین قسم کی اشتعال انگیزی اور جارحیت کی گئی۔ مگر اس پوری مدت میں آپ نے ایک بار بھی اپنے مخالفین کے اوپر جارحانہ حملہ نہیں کیا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں براہ راست طور پر صرف تین بار جنگ کی ہے، اور یہ تینوں جنگیں یقینی طور پر مدافعانہ تھیں ۔ بدر (۲ھ) احد (۳ھ) اور حنین (۸ھ) صرف یہی نہیں جنگیں ہیں جن میں آپ نے براہ راست شرکت فرمائی۔ مگر یہ تینوں جنگیں وہ تھیں جن میں خود آپ کے مخالفین آپ کے اوپر حملہ آور ہوئے تھے۔ چوں کہ ان تینوں مواقع پر مدافعت کے سوا اور کوئی صورت نہ تھی اس لئے آپ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کا مقابلہ کیا۔
اسلام میں امن ہے مگر جنگ نہیں، ،اسلام میں مدافعت ہے مگر جارحیت نہیں۔ اسلام میں رواداری ہے مگرتشدد نہیں۔ اسلام انسان کو دارالسلام (سلامتی کے گھر) کی طرف لے جانا چاہتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی : واللہ يدعوا الى دارالسلام (یونس (۲۵) فطرت کے مطابق ماسکو سے نکلنے والے انگریزی ماہنامہ اسپٹنک (Sputnik) کے شمارہ نومبر ۱۹۸۶ میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں ایک چھوٹے سے واقعہ کا ذکر ہے جو بہت سبق آموز ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سوویت یونین کے سابق پریذیڈنٹ یوری اینڈروپوف (Yuri Andropove) ۱۹۸۳ میں امریکہ گئے۔ جب وہ وہاں ائیر پورٹ پر اترے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں ۱۱ سال کی ایک امریکی لڑکی بھی تھی۔ اس کا نام سمنٹھا اسمّتھ (Samantha Smith) تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ائیر پورٹ پر پہنچی تھی۔ وہ روسی صدر سے ملی اور اپنے معصومانہ انداز میں ان سے کہا کہ آپ جنگ چاہتے ہیں یا امن !
Are you for war or peace?
روسی صدر پر چھوٹی بچی کے اس سادہ جملہ کا بہت اثر ہوا۔ واپس لوٹنے کے بعد بھی وہ اس کو بھلا نہ سکے۔ جلد ہی بعد سمنٹھا اسمّتھ کو روسی صدر کا ایک خط ملا جس میں اس کو حکومت روس کے مہمان کی حیثیت سے سوویت روس کا سفر کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق جون ۱۹۸۳ میں سمنٹھا اسمّتھ نے سوویت روس کا سفر کیا۔ سوویت روس کے دو ہفتہ دورہ کے بعد سمنٹھا اسمّتھ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues