Al-Risala · November 1989 · page 25

عمر بن عبد العزیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵

عمر بن عبد العزیز

مجلہ البحوث الاسلامیہ (ریاض) ایک علمی مجلہ ہے۔ اس کے شمارہ ۲۳ (۱۴۰۸ھ) میں خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے بارے میں ایک مفصل مقالہ شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے ۔ عمر بن عبد العزیز نے اسلامی دعوت کو پھیلانے کی کافی کوشش کی۔ اور لوگوں کے درمیان اسلام کی تبلیغ کے لیے اپنی توجہ صرف کی۔ انھوں نے بڑے بڑے سرداروں اور حکم رانوں کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ اور علماء کو بھیجا کہ وہ اسلام کی سچی تعلیمات اور دینِ توحید سے انھیں باخبر کریں۔ ان کی ان کوششوں نے پھل دیا اور لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے ۔ عمر بن عبد العزیز نے ان لوگوں کا جزیہ معاف کر دیا جو اسلام لائے تھے ۔ یہ لوگوں کے لیے اسلام میں داخل ہونے کا مزید سبب بنا، جب انھوں نے جانا کہ اسلام میں داخل ہونے سے ان کے حقوق کم نہیں ہوئے بلکہ اور زیادہ ہو جاتے ہیں ۔

ان کے گورنروں میں سے ایک گورنر نے انھیں جزیہ ساقط کرنے کے طریقہ پر ملامت کی۔ عمر بن عبد العزیز نے فیصلہ کن لہجہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو اسلام قبول کرے اس کا جزیہ ساقط کر دو ۔ تمہاری یہ رائے بہت بری ہے۔ کیوں کہ اللہ نے محمد کو ہدایت دینے والا بنا کر بھیجا، اس نے انھیں ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا ۔ اور میری جان کی قسم، عمر اس سے زیادہ شقی ہے کہ سارے لوگ اس کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہو جائیں ۔

خراسان میں بعض لوگ اپنی ذاتی مصلحت کی بنا پر کثرت سے لوگوں کے داخلِ اسلام ہونے پر متردد ہوئے۔ انھوں نے وہاں کے گورنر الجراح سے کہا کہ وہ نو مسلموں کی آزمائش کریں اور انھیں ختنہ کرنے کا حکم دیں تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ کیا وہ حقیقی رغبت کی وجہ سے مسلمان ہوتے ہیں۔ الجراح نے اس بارے میں عمر بن عبد العزیز کو لکھا ۔ انھوں نے سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے محمد کو دعوت دینے والا بنا کر بھیجا، اس نے آپ کو ختنہ کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ اسی طرح بصرہ کے گورنر نے انھیں لکھا کہ لوگ بہت زیادہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ خراج کی رقم کم ہو جائے گی ۔ عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے اس کو میں نے حب جانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page