عمر بن عبد العزیز
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۶
خدا کی قسم مجھے یہ پسند ہے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں اور میں اور تم ہل چلانے والے بن جائیں، اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنی معاش حاصل کریں۔
عمر بن عبدالعزیز نے وسیع دائرہ میں اسلام کی طرف پھیلائی۔ انھوں نے تمام بادشاہوں کے نام خط لکھے اور انھیں اسلام میں داخل ہونے کی دعوت بلایا ۔ مثلاً ہندوستان اور ماوراء النہر وغیرہ ۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ عمر بن عبدالعزیز کے گورنروں نے جب خلیفہ میں دعوتی رغبت دیکھی ، تو انھوں نے بھی اس میدان میں کافی سرگرمی دکھائی۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ خراسان کے گورنر الجراح کے ہاتھ پر سم ہزار سے زیادہ افراد مسلمان ہوئے۔ عمر بن عبدالعزیز غالباً اسلامی تاریخ کے آخری معلوم شخص ہیں جن کے اندر دعوت کا شعور پوری طرح زندہ تھا جو کا مل طور پر جانتے تھے کہ دعوت کیا ہے اور دعوت کیا نہیں ہے۔ وہ اس اس راز سے واقف تھے کہ اسلام میں سب سے زیادہ قابل لحاظ چیز دعوت ہے۔ جب دعوت کی مصلحت اور دوسری مصلحتوں کے درمیان ٹکراؤ ہو تو دعوت کی مصلحت کو ترجیح دی جائے گی اور دوسری تمام مصلحتوں کو نظر انداز کر دیا جائے گا ، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی زیادہ اہم نظر آتی ہوں۔
موجودہ زمانہ میں ، کم از کم معروف مسلمانوں کے درمیان ، دعوت کا شعور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ حتی کہ ان میں سے جو لوگ دعوت کا نام لیتے ہیں ، وہ بھی دعوت کی حقیقت سے اتنے ہی بے خبر ہیں جتنا کہ نام نہ لینے والے لوگ ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف دعوت کا نام لیتے ہیں اور دوسری طرف ایسی باتیں کرتے ہیں جو دعوت کے لیے زہر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ داعی کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں ، بغیر اس کے کہ انھوں نے دعوت کو سمجھا ہو ، بغیر اس کے کہ انھوں نے اپنے آپ کو داعیانہ ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے تیار کیا ہو۔ اقوال حکمت صفحات ۲۰۰ هدیہ ۱۵ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues