دعوت اور عمل
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷
دعوت اور عمل
کوئی داعی اس وقت اللہ کی نظر میں داعی ہے جب کہ وہ داعی ہونے کے ساتھ عامل بھی ہو۔ آدمی جب کسی دوسرے شخص کو نیکی کی تلقین کرے تو سنجیدگی کا تقاضہ ہے کہ وہ خود بھی اس پر کاربند ہو۔ حضرت شعیب نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں خود وہی کام کروں جس سے میں تم کو روک رہا ہوں (ہود ۸۸)
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل ، دعوت کی شرط ہے ۔ دعوت تبلیغ کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا خواہ داعی عامل ہو یا نہ ہو۔ مفسر ابن کثیر نے سورۃ البقرہ (آیت ۴۴) کے تحت لکھا ہے: فَكُلٌّ من الأمر بالمعروف وفعله واجب لا يسقط احد هما بترك الأخر على اصح قولى العلماء من السلف والخلف وذهب بعضهم الى ان مرتكب المعاصى لا ينهى غَيْرَهُ عَنْهَا، وهذا ضعيف واضعف منه تمسكهم بهذه الآية فَإِنَّهُ لَا حُجَّةَ لهم فيها، والصحيح ان العالم يامر بالمعروف وان لم يفعله وينهى عن المنكر وان استكبه، وقال مالك عن ربيعة سمعت سعيد بن جبیر یقول لو كان المرء لا يامر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر حتى لا يكون فيه شَيْءٌ ما امر أحد بمعروف ولا نَهَى عن منكر. قال مالك وصدق من ذا الذي ليس فيه شَيْءٌ (تفسير ابن كشير، الجوز الأول، صفحه ۸۵)
پس معروف کی تلقین کرنا اور اس پر عمل کرنا دونوں ہی واجب ہیں ، ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک سے ساقط نہیں ہوتا۔ علماء سلف اور علماء خلف کا صحیح ترین قول یہی ہے۔ ان میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا مرتکب ہو وہ دوسرے کو انھیں گناہوں سے نہ روکے۔ مگر یہ قول ضعیف ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ ضعیف بات یہ ہے کہ اس کو سورۃ البقرہ کی آیت (تا امرون الناس بالبر و تنسون انفسکم) سے نکالا جائے ، کیوں کہ اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں ۔
صحیح بات یہ ہے کہ عالم معروف کی تلقین کرے گا اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرتا ہو اور وہ منکر سے روکے گا اگر چہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔ مالک نے ربیعہ سے نقل کیا ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر ایسا ہوتا کہ آدمی صرف اس وقت معروف کی تلقین
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues