Al-Risala · November 1989 · page 28

دعوت اور عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۸

کرے اور منکر سے روکے جب کہ اس کے اندر کوئی چیز پائی نہ جارہی ہو تو کسی شخص نے بھی معروف کی تلقین نہ کی ہوتی اور نہ وہ منکر سے روکتا ۔ امام مالک نے کہا اور سچ کہا کہ کون شخص ہے جس کے اندر کوئی چیز نہیں ۔

اس معاملہ میں علماءِ اسلام کا اتفاق اس لیے ہے کہ یہ ایک اصول کا مسئلہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کے لیے عمل کی شرط دعوت کو ہمیشہ کے لیے نا قابلِ عمل بنا دیتی ہے ۔ کیوں کہ ایک سچا عامل اور صالح انسان اللہ سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے ۔ ایسا آدمی آخرت کے احساس سے کانپتا رہتا ہے ۔ اس کا احساسِ احتساب اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے بظاہر عمل کو بھی بے عمل سمجھنے لگتا ہے ۔ ایسی حالت میں کون ہو گا جو اپنے صالح اور باعمل ہونے کا یقین کرے اور اس کے بعد وہ دعوتِ اسلامی کا آغاز کرے ۔

اصل یہ ہے کہ دعوت احساسِ ذمہ داری کے تحت ظاہر ہونے والا عمل ہے نہ کہ احساسِ صالحیت کے تحت ۔ مدعو بھی جب اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ اسلام کی اپنی صداقت کی بنا پر ایسا اقدام کرتا ہے نہ کہ مسلمانوں کو باعمل ہونے کو دیکھ کر ۔ اگر داعی کے باعمل ہونے کو دیکھ کر لوگ حق کو قبول کرتے تو تمام انبیاء کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی ۔ مگر معلوم ہے کہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی بھی پیغمبر کے گرد انسانوں کی کوئی بڑی جماعت اکھٹا نہیں ہوتی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ دعوت ہر حال میں دینا ہے اور ہر شخص کو دینا ہے ، اس کے لیے مذکورہ قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی جا سکتی ۔

الرسالہ (ہندی)

ماہنامہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ انشاء اللہ بہت جلد پہلا شمارہ منظرِ عام پر آرہا ہے ۔ صاحبانِ ایجنسی اپنی مطلوبہ تعداد سے مطلع فرمائیں۔ فی شمارہ پانچ روپیہ [ ] سالانہ زر تعاون ساٹھ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page