Al-Risala · November 1989 · page 35

دعوت اور عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

کے محلہ سے کچھ لوگ راماکوٹ بازار میں جا گھسے و آٹھ دکانوں کو آگ لگادی۔ پانچ مکانوں کو بھی پھونک دیا۔ ۲۰ منٹ تک یہ تباہی اور بربادی بلا روک ٹوک چلتی رہی۔ ۔۔۔ صفحہ ۲ اس واقعہ کی روشنی میں فساد کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ " گلال" پھینکنے پرمشتعل ہونے والے لوگ مشتعل نہ ہوں اور روہ مسجد سے پتھر پھینکنے کی دوسری غلطی نہ کریں۔ اس کے بعد فساد اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے گا۔ مگر دوسری غلطی فساد کو بڑھادیتی ہے، وہ ایک معمولی واقعہ کو بھیانک حادثہ بنا دیتی ہے۔

راجستھان (قدیم نام راجپوتانہ) کا مطلب ہے راجاؤں کی سرزمین ۔ آزادی (۱۹۴۷) سے قبل یہاں چھوٹی بڑی ۲۶ ریاستیں تھیں۔ یہ سب راجپوت تھے جو ہمیشہ سے نہایت بہادر قوم رہے ہیں۔ مغل حکمرانوں کے لئے سب سے بڑا فوجی چیلنج راجپوتوں ہی کی طرف سے تھا۔ اکبر نے اس مسئلہ کے حل کے لئے مصلحت کا انداز اختیار کیا۔ اس کی بعض غیر ضروری حماقتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے راجپوتوں کے سلسلہ میں اس کی پالیسی مفید رہی۔ اس نے راجپوتوں کو اس حد تک اپنے ساتھ لے لیا کہ واحد قابل ذکر راجپوت باغی مہارانا پرتاپ سنگھ کا مقابلہ کرنے کے لئے اکبر کو جو بہترین جنرل ملا وہ راجہ مان سنگھ تھا جو خود بھی ایک بہادر راجپوت تھا۔

آزادی سے قبل ہندوستان میں بہت سے راجہ، نواب تھے۔ ان کی ریاستوں کی تعداد ۶۰۱ تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں بڑی ریاستیں یہ تھیں: حیدر آباد، کشمیر، میسور، ٹراونکور، بڑودہ، گوالیار، اندور، کوچن، جے پور، جودھپور، بیکانیر، بھوپال اور پٹیالہ۔ راجستھان کی قدیم ریاست جودھپور کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ جودھپور کی تاریخ سے واقف تھے۔ ان سے جو باتیں ہوئیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ جودھپور کی بنیاد راجہ راؤ جودھل نے ۱۴۵۹ء میں ڈالی تھی۔ انھیں کے نام پر اس کا نام جودھا پور پڑا جو بعد کو جودھپور ہوگیا ۔ آزادی سے پہلے یہ ایک راجپوت ریاست تھی ۔ جودھپور یونیورسٹی ۱۹۶۲ میں قائم ہوئی۔ جودھپور ضلع کا شمالی اور شمال مغربی حصہ صحرا ہے۔ اس ضلع میں صرف ایک ندی ہے جو لونی کہلاتی ہے۔ اگر آپ شہر کے کنارے کھڑے ہوں تو ایک طرف آپ کو میدانی علاقہ میں شہر کی آبادی پھیلی ہوئی نظر آئے گی۔ دوسری طرف پہاڑی کے اوپر پرانے قلعہ کی عمارتیں دکھائی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page