An Advanced history of India, p. 495.
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶
دیں گی جو گویا ایک تاریخی مشاہدے کی بلندی پر کھڑے ہو کر نئے شہر کو دیکھ رہی ہیں۔ جودھ پور کے راجہ جسونت سنگھ کی وفات ۱۶۷۸ء میں ہوئی ۔ اس کے بعد ان کے یہاں فروری ۱۶۷۹ء میں ایک لڑکا لاہور میں پیدا ہوا جس کا نام اجیت سنگھ رکھا گیا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ جسونت سنگھ کے درباری اجیت سنگھ کو دہی لے گئے اور مغل شہنشاہ اور نگ زیب زیب سے درخواست کی کہ وہ اس لڑکے کو جسونت سنگھ کی جگہ جودھ پور کا راجہ تسلیم کرلے ۔ مگر بادشاہ نے کہا کہ اس کو یہاں چھوڑ دو تاکہ اس کی پرورش ہمارے محل میں ہوسکے ۔ یا ایک اور معاصر بیان کے مطابق جودھ پور کا تخت اجیت سنگھ کو اس شرط پر پیش کیا گیا کہ وہ مسلمان ہو جائے : The emperor offered to bring him up in his harem, or according to another contemporary account "the throne of Jodhpur was offered to Ajit on condition of his turning a Muslim."
An Advanced history of India, p. 495.
ایک اور روایت اس سے بھی آگے جاتی ہے۔ اس کے مطابق مغل حکمراں اور نگ زیب نے ۱۶۷۹ء میں مارواڑ کو فتح کیا ۔ اس نے حکم دیا کہ اس کے باشندے اسلام قبول کر لیں ۔ اس کے جواب میں جودھ پور، جے پور اور اور دے پور کے راجہ متحد ہو گئے اور مسلم جوئے کو اپنے اوپر سے اتار پھینکا :
The Mughal emperor Aurangzeb invaded and plundered Marwar in 1679, ordering the conversion of its inhabitants to Islam. In reply, the princely states of Jodhpur, Jaipur, and Udaipur formed an alliance and threw off the Muslim yoke. یہ دونوں روایتیں بالکل بے بنیاد ہیں ۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اورنگ کے زمانے میں جسونت سنگھ راٹھور جودھ پور کا راجہ تھا۔ وہ اورنگ زیب کا معتمد تھا۔ حتیٰ کہ اورنگ زیب نے اس کو کابل اور پشاور کا گورنر بنا دیا۔ یہیں ۱۶۷۸ء میں جسونت سنگھ کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد فروری ۱۶۷۹ء میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام اس کے گھر والوں نے اجیت سنگھ رکھا۔ جودھ پور کے راجپوتوں کی خواہش تھی کہ اورنگ زیب اسی اجیت سنگھ کو جودھ پور کا راجہ مان لے۔ مگر اورنگ زیب نے اس درخواست کو منظور نہیں کیا۔ اس کے بجائے اس نے ناگور
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues