Al-Risala · November 1989 · page 37

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷

کے رانا اندر سنگھ کو جودھپور کے تخت پر بیٹھا دیا۔ اور نو عمر اجیت سنگھ کی بابت اس نے حکم دیا کہ وہ دہلی میں رہے اور مغل ماحول میں تربیت پائے۔

غالباً راجپوتوں نے سمجھا کہ اورنگ زیب سنگھ کو اپنے یہاں رکھ کر اس کو مسلمان بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کو لے کر دہلی سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اودے پور کے راجہ کے ساتھ مل کر اورنگ زیب کے خلاف بغاوت کر دی۔ حتیٰ کہ خود اورنگ زیب کے لڑکے اکبر کو بھی انھوں نے اس بغاوت میں اپنے ساتھ ملا لیا۔ یہ بے فائدہ لڑائی مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ تا ہم اورنگ زیب نے اجیت سنگھ کو جودھپور کا راجہ نہیں مانا۔ یہاں تک کہ ۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب کا انتقال ہو گیا۔

اورنگ زیب کے بعد بہادر شاہ اول نے پالیسی بدلی۔ اس نے ۱۷۰۹ء میں اجیت سنگھ کو جودھپور کا راجہ مان لیا۔ مگر یہ بعد از وقت تھا۔ چنانچہ دوبارہ اس کا کوئی فائدہ مغل سلطنت کو حاصل نہ ہو سکا۔

اجیت سنگھ کے معاملہ میں اورنگ زیب کا فیصلہ یقیناً غلط تھا۔ اس کے نتیجہ میں وفادار راجپوت غیر ضروری طور پر مغلوں کے دشمن بن گئے۔ اورنگ زیب کو تقریباً ۵۰ سال حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اس کے دور کا بیشتر حصہ لڑائیوں میں گزرا۔ یہ لڑائیاں اس کی بہادری کو ثابت کرتی ہیں۔ مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان لڑائیوں کا کوئی تعلق دانشمندی سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب کی اکثر لڑائیاں صرف اس لئے پیش آئیں کہ وہ "شمشیر" کی طاقت کو ضرور جانتا تھا، مگر حکمت اور دانش مندی کی طاقت کی اسے خبر نہیں تھی۔

اورنگ زیب بلاشبہ مغل خاندان کا ایک بہادر بادشاہ تھا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ مغل خاندان کا ایک بے دانش بادشاہ تھا۔ یہ اورنگ زیب ہی ہے جس نے اپنی غیر دانشمندانہ کارروائیوں سے مغل سلطنت کے زوال کے اسباب پیدا کئے۔ ۲۸ جولائی کی صبح کو فلّور ناپہنچا۔ یہاں ٹرین چھوڑ دی اور ساتھیوں کے ہمراہ بذریعہ روڈ سفر کر کے شیو گنج پہنچا۔ شیو گنج میں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں الرساله مشن کو پھیلانے کا کام سب سے زیادہ مشتاق احمد صاحب نے کیا ہے۔ وہ الرسالہ مشن کے خاموش

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page