Al-Risala · November 1989 · page 38

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۸

کارکن ہیں اور الرسالة اور کتابیں لوگوں کو برابر پہنچاتے رہتے ہیں۔

۲۸ جولائی کو جمعہ کا دن تھا۔ نماز جمعہ سے پہلے شیوگنج کی جامع مسجد میں تقریباً پون گھنٹہ کا خطاب ہوا۔ اس کا موضوع یہ حدیث تھی کہ المساجد بیوت المتقین (مسجد متقیوں کا گھر ہے) مختلف پہلوؤں سے اس حدیث رسول کی وضاحت کی گئی۔ اسی دن شام کو ۴ بجے ایک عمومی اجتماع ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلم دونوں فرقوں کے لوگ موجود تھے۔ بستی کے معزز ہندوؤں اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ تقریر کا موضوع ”قومی ایکتا“ تھا۔ میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ملک میں ایکتا کس طرح قائم کیا جاسکتا ہے۔ ۲۹ جولائی کو جامع مسجد میں نماز عشاء کے بعد ایک خطاب ہوا۔ اس کا موضوع تھا ”ایمان واسلام کی حقیقت“۔

اس کے علاوہ قیام گاہ پر لوگ بڑی تعداد میں برابر آتے رہے۔ اور مجلس کے انداز میں گفت گو اور تفہیم کا سلسلہ جاری رہا۔ شیو گنج کے علاوہ اطراف کی بستیوں سے بھی کچھ لوگ ان مجالس میں شریک ہوئے۔

۲۸ جولائی کو شیو گنج کے اجتماع میں بستی کے جو معزز افراد شریک ہوئے ان میں سے ایک پنڈت کشن لال جی بھی تھے۔

اس سال (۱۹۸۹) شیو گنج میں ایسا ہوا کہ یہاں کے چوک پر جو ہولی کھڑی کی گئی تھی، کسی نے ایک دن پہلے اس میں آگ لگادی۔ یہ بڑا نازک واقعہ تھا۔ چنانچہ بستی میں تناؤ پیدا ہوگیا۔ اندیشہ ہوا کہ کہیں فرقہ وارانہ فساد نہ ہو جائے۔ اس وقت پنڈت کشن لال جی نے ایک اہم تعمیری کام کیا۔ وہ برہمن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہولی جل گئی تو کیا ہوا۔ میں دوسری ہولی لگا دیتا ہوں۔ چنانچہ لکڑیاں جمع کرکے دوسری ہولی تیار کی گئی۔ اس کے بعد پنڈت جی نے قاعدہ کے مطابق، منتر وغیرہ پڑھا۔ اس طرح انھوں نے بروقت مداخلت کرکے دوسری ہولی لگوادی۔ اور اس کے بعد فساد کی فضا اپنے آپ ختم ہوگئی۔

۲۹ جولائی کی شام کو شیو گنج کی جامع مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکلا تو مسجد کی سیڑھیوں پر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لئے ہوئے دعا کے لئے کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ منظر پہلے سارے ملک کی مسجدوں میں دکھائی دیتا تھا۔ اب وہ بہت کم ہو گیا ہے۔ یہ اس عزت و احترام

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page