An Advanced history of India, p. 495.
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
کی ایک علامت ہے جو ماضی میں مسلمانوں کے لئے ہندوؤں کے دلوں میں پایا جاتا تھا۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں مسلم تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک ۱۹۴۷ "سےپہلے کا دور ، دوسرا، ۱۹۴۷ کے بعد کا دور ۔ قدیم دور میں ہمارے معاشرے پر صوفیاء کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے معاشرے پر لیڈروں کا غلبہ ہے۔ صوفیا محبت کی باتیں کرتے تھے ، اس کے مقابلہ میں لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ نفرت کی باتیں کرتے ہیں۔ صوفیا کے زمانہ میں ہندوؤں کی نظر میں مسلمانوں کی تصویر ایک قابل احترام گروہ کی تھی۔ لیڈروں کے زمانہ میں معاملہ اس کے برعکس ہو گیا ہے۔ اب ہندوؤں کی نظر میں مسلمانوں کی تصویر ایک قابل حقارت گروہ کی ہو گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کے واحد ذمہ دار ان کے نام نہاد لیڈر ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو حدیث میں الائمۃ المضلون کہا گیا ہے۔ لیڈروں کی جھوٹی لیڈری نے خود ان کی ذات کو تو یقیناً فائدہ پہنچایا ہے مگر قوم کو صرف بربادی کے گڑھے میں ڈال دیا ہے۔ جس دن مسلمان اپنے ان جھوٹے رہنماؤں سے نجات حاصل کر لیں گے ، اسی دن ان کے مستقبل کی صبح بھی طلوع ہو جائے گی۔
ایک صاحب نے بتایا کہ میرے چار لڑکے ہیں۔ چاروں آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ میں ان کی طرف سے سخت پریشان ہوں۔ میں نے چاروں لڑکوں کو جمع کر کے انھیں سمجھایا۔ پھر ان کی رضا مندی سے ایک تحریر تیار کی۔ اس میں لکھا تھا کہ" ہم چاروں بھائی آج ۲۹ جولائی ۱۹۸۹ کو یہ پکا وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے بڑے بھائی کو اپنا سردار مانیں گے ۔ ساری زندگی ان کے کہے پر چلیں گے ، خواہ ہم کو پسند ہو یا نا پسند " اس تحریر پر چاروں بھائیوں نے دستخط کئے ۔ میں نے کہا کہ اتحاد اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کو غیر مشروط طور پر بڑا بنایا جائے۔ پھر ان کو سمجھایا کہ بڑے کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ چھوٹوں کے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آئے۔ اور چھوٹوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے کا احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کی مدد فرمائے۔ شیو گنج میں ایک صاحب نے اپنے یہاں کھانے پر بلایا ۔ میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے بتایاشریف (۲۰ سال)، بتایا ۔ وہ " بارہ وفات " کو پیدا ہوئے تھے ، اس لئے ان کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues