An Advanced history of India, p. 495.
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱
۱۹۴۵ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام وقف کر دیا۔ یہ وصیت نامہ ۸، ۹ روپیہ کے اسٹمپ پر ہے۔ وہ اردو میں ہے اور اس پر سابق جارج پنجم کی تصویر بنی ہوئی ہے ۔
اس وقف نامہ کی فوٹو کاپی میں نے یہاں دیکھی ۔ اس میں درج ہے کہ اس وقف سے سروہی اور راجستھان کے مسلم نوجوانوں ، نیز دوسرے مسلمانوں کی تعلیمی امداد کی جائے ۔ وقف نامہ کے مسودہ میں مزید یہ درج ہے کہ "یونیورسٹی مذکور کو یہ بھی اختیار ہو گا کہ جائداد موقوفہ کے جزء یا کل کو فروخت کر کے اس کے حاصل سے دیگر جائدا دجس مقام پر چاہے خرید لے۔ اور جو جائداد اس طرح خرید کی جائے وہ اس وقف کی متذکرہ مد میں خرچ کی جائے۔ "
اس موقوفہ جائداد کو میں نے خود دیکھا۔ اس وقت وہ کروڑوں روپیہ کی مالیت رکھتی ہے۔ مگر یہ قیمتی زمین ۴۵ سال سے بالکل بے کار پڑی ہوئی ہے۔ فاصلہ کی وجہ سے یونیورسٹی اگر اس اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی تو وقف کے مطابق وہ اس کو فروخت کر کے دوسرا موزوں انتظام کر سکتی ہے۔ مگر یونیورسٹی کے ذمہ داران نے اب تک یہ بھی نہیں کیا۔ شاید اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے انھیں یہ موقع نہیں کہ وہ یونیورسٹی کے بیرونی مسائل کی طرف توجہ دے سکیں۔ مولانا خدا بخش بلوچ (۳۵ سال، اپنے الفاظ میں، الرسالہ کے شیدائی ہیں ۔ ہر شمارہ کو کئی کئی بار پڑھتے ہیں۔ انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بتایا۔ ہیڈ کوارٹر جنم شتادبی (فروری ۱۹۸۹) کے موقع پر شیو گنج میں ہندو نوجوانوں کا ایک جلوس نکلا۔ وہ چلتا ہوا جامع مسجد کے سامنے پہنچا جس میں مولا نا خدا بخش صاحب امام اور خطیب ہیں۔ جلوس اس وقت مختلف قسم کے اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مثلاً "جس کو چاہیے پاکستان، اس کو بھیجو قبرستان" اور "بھارت میں رہنا ہوگا، وندے ماترم کہنا ہوگا" وغیرہ۔
مولانا خدا بخش صاحب اس وقت مسجد میں تھے۔ وہ شور سن کر باہر آئے۔ انھوں نے کسی بھی قسم کا غصہ یا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیں پوچھا کہ تم لوگ کیا نعرے لگارہے ہو۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ مجمع پر نظر ڈالی ۔ چند نوجوان انھیں اپنی پہچان کے نظر آئے ۔ انھوں نے لپک کر ان سے آداب کیا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دئے۔ یہ دیکھ کر جلوس کے دوسرے لوگ بھی "مولوی صاحب نمستے، مولوی صاحب نمستے" کرنے لگے۔ مخالفانہ نعرہ بازی موافقانہ ملاقات میں تبدیل ہوگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues