Al-Risala · November 1989 · page 42

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲

ان سے میں نے پوچھا کہ اس پوری کارروائی میں آپ کا کتنا وقت لگا۔ انھوں نے کہا کہ صرف پانچ منٹ۔ مولا ناخدا بخش جب یہاں کی مسجد میں آئے تو ایک شخص سے ان کی دلچسپ گفتگو ہوئی ۔ ان کی روایت کے مطابق یہ گفتگو حسب ذیل تھی :

" مولانا ، آپ دیوبندی ہیں یا بریلوی "

" بھائی میں تو راجستھانی ہوں "

" نہیں ، میں عقیدہ کی بات کر رہا ہوں "

" عقیدہ کوئی مکانی چیز نہیں۔ اگر مکان کی نسبت سے عقیدہ بنتا تو مکی عقیدہ اور مدنی عقیدہ کہا جاتا"۔ اس کے بعد گفتگو اپنے آپ ختم ہو گئی۔

میں شیو گنج میں مشتاق احمد صاحب (۵۶ سال) کے ساتھ مقیم تھا۔ انھوں نے بتایا کہ شیو گنج میں ہماری مسجد کی دیوار پر کسی نے ہندی میں نعرے لکھ دئے " ہندو جاگے گا ، دیش جاگے گا " دیش کے لئے جینا سیکھو " وغیرہ۔ ان نعروں پر غصہ کا اظہار کرنے کے بجائے انھوں نے اس کو پانی سے دھو ڈالا۔ اس کے بعد سالانہ موقع پر مسجد میں سفیدی ہوئی اور قصہ ختم ہو گیا ۔ اس دنیا میں ہر برائی کو ختم کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ آپ کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ آپ لوگوں کی سیاہی کے اوپر اپنی طرف سے سفیدی پھیر دیا کریں۔

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اس ملک کے ہندو اور مسلمان آج اپنے اپنے مذہب پر نہیں ہیں بلکہ انگریز کے دئے ہوئے مذہب پر ہیں۔ انگریز نے اپنے مقصد کی خاطر یہاں " لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی چلائی۔ اس نے مذہب کو محبت کے بجائے نفرت کا عنوان بنا دیا۔

میں نے اپنے بچپن میں دیکھا ہے کہ ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی کے الگ الگ برتن ہوا کرتے تھے۔ یہ رجحان بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ ہر معاملہ میں ہند ومسلم، ہندو مسلم کیا جانے لگا۔ مثال کے طور پر کسی اسکول کا نام ہندو اسکول یا کسی کالج کا نام ہندو کالج تھا ، یا وہاں ہندو ٹیچر بچوں کو پڑھاتے تو مسلمان وہاں داخلہ لینا پسند نہیں کرتے تھے۔

اس طرح کی تقسیم سراسر احمقانہ تھی۔ حتیٰ کہ وہ خود سنت رسول کے خلاف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نازک سفر کے لئے ایک مشرک عبد اللہ بن ارقط کو اپنا رہنما بنایا۔ اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page