Al-Risala · November 1989 · page 43

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳

کا پہلا مدرسہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قائم ہوا ، اس کے تمام کے تمام طلبہ مشرک بلکہ دشمن اسلام تھے۔ یہ مدرسہ وہ تھا جو مدینہ میں بدر کے مشرک قیدیوں کے ذریعہ قائم کیا گیا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ صحیح حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو (لا تفضلونی علی یونس بن متی)، مگر تمام مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء کہتے ہیں۔ شارحین حدیث نے اس اشکال کے جوابات دئے ہیں لیکن ان سے میری تسلی نہ ہو سکی۔

میں نے کہا کہ دو باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک ہے باعتبار حقیقت کسی پیغمبر کا دوسرے پیغمبروں سے افضل ہونا۔ اور دوسرا ہے، ایک پیغمبر کو دوسرے پیغمبروں پر افضل بتانا۔ اس حدیث میں افضل ہونے کی تردید نہیں ہے بلکہ افضل بتانے کی تردید ہے۔ علم الہی میں یقیناً پیغمبروں کے درجات ہیں۔ مگر ہمارا کام اتباع رسول ہے نہ کہ تفضیل انبیاء کی بحث چھیڑنا اور اس پر تقریر کرنا۔

سمیر پورالی بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ کاروبار کے اعتبار سے یہ شیون گنج سے بڑا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں یہاں بہت بڑی منڈی نئے طرز کی تعمیر کرائی ہے۔ یہ زرعی پیداوار کی منڈی ہے اس کی کشادہ سڑکوں پر جگہ جگہ کبوتروں کے غول بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ غلہ اتارتے اور چڑھاتے ہوئے اس کے دانے سڑک پر گرتے ہیں۔ ان کو کھانے کے لئے یہ کبوتر یہاں جمع رہتے ہیں۔ وہ اپنے عمل میں اتنے منہمک تھے کہ جب تک ہماری گاڑی کے پہیے ان کے سر تک نہ پہنچ جاتے، وہ وہاں سے نہ اڑتے۔

سمیر پور کی سڑکوں اور بازاروں سے چلتے ہوئے یہی منظر وہاں کے انسانوں کا بھی نظر آیا۔ ہر آدمی انتہائی یکسوئی سے اپنے کاروبار میں مشغول تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کو کاروبار کے سوا کسی اور چیز کی طرف دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہے۔

میں نے سوچا کہ جب یہ لوگ کاروبار میں اتنا زیادہ منہمک ہیں تو آخر وہ کون ہے جو فرقہ وارانہ دنگے اور فساد کرتا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ دنگا اور فساد کرنے والے یہ لوگ نہیں ہیں۔ بلکہ یہ دراصل چھوٹے طبقہ کے لوگ ہیں جو دنگا اور فساد کرتے ہیں۔ بقیہ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ ان کے فرقہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page