Al-Risala · November 1989 · page 44

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴

چھوٹے لوگ جب فساد کرتے ہیں تو وہ ان کی مذمت نہیں کرتے ، اس طرح ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ یہ خاموش حوصلہ افزائی فساد کو جاری رکھتی ہے۔ اگر وہ اپنے فرقہ کے فسادیوں کی مذمت کریں تو ان کی حوصلہ شکنی ہو اور فساد کی جڑ کٹ جائے۔

مگر یہاں " ایں گناہ است که در شهر شما نیز کنند " والا معاملہ ہے۔ مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے ۔ کہ ان کے " خوش پوش " لوگ خود کبھی فساد میں شریک نہیں ہوتے ۔ جو مسلمان فساد چھیڑتے ہیں یا فساد کے اسباب پیدا کرتے ہیں وہ ہمیشہ مسلمانوں کے نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں بھی مسلمانوں کا خوش پوش طبقہ یہی جرم کرتا ہے کہ وہ ان غلط کار مسلمانوں کی مذمت نہیں کرتا۔ مثلاً ایک مقام پر ہندوؤں کے جلوس میں سے کسی شخص نے مسجد کی دیوار پر گلال پھینک دیا تو کچھ مسلمانوں نے جلوس کے اوپر پتھراؤ کیا۔ اس سے فساد برپا ہو گیا۔ ایک مقام پر ایک آدمی دیسی لکڑی کے ساتھ ایک مسلمان ملوث پایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں فساد ہو گیا۔ مگر ان مواقع پر مسلمانوں کے نمائندہ طبقہ نے اپنے فرقہ کے غلط کار افراد کی مذمت نہیں کی ۔ وہ یا تو ایڈ منسٹریشن کو برا کہتے رہے یا ہندو فرقہ پرستوں کو۔

یہی صورت حال فساد کی جڑ ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے اعلیٰ طبقہ کو یہ ڈر رہتا ہے کہ اگر وہ اپنے فرقہ کے غلط کار افراد کی مذمت کریں گے تو وہ اپنی قوم سے کٹ جائیں گے۔ آدمی اپنی قوم سے نہ کٹنے کے لئے حق سے کٹ جاتا ہے۔

ایک صاحب نے پالی (راجستھان) کا واقعہ بتایا۔ ایک مسلم نوجوان چوڑی کے اوزار کا کاریگر بننا چاہتا تھا۔ یہ اوزار لوہے کے ہوتے ہیں۔ نوجوان اوزار بنانا سیکھنا چاہتا تھا مگر استاد لوگوں نے اس کی مدد نہیں کی۔ نوجوان پریشان ہوا کہ استاد کے بغیر اوزار بنانا کس طرح سیکھے۔ آخر اس نے منت مانی۔ اس نے کہا کہ اگر مجھ کو اوزار بنانا آ جائے تو میں چاندی کا اوزار بنا کر تعزیہ پر چڑھاؤں گا۔

اس منت کے بعد اس نے کوشش شروع کر دی۔ یہاں تک کہ استاد کے بغیر اس نے اوزار بنانا سیکھ لیا۔ اس نے پہلا اوزار چاندی کا بنا کر اس کو تعزیہ پر چڑھایا۔ یہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے۔

(باقی آئندہ)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page